Circle Image

Awais ul Hassan Khan

@AwaisulHassan

کسی کو کھو کے زمانے سے کیا گلہ کرنا
مقدروں کے لکھے کا حساب کیا کرنا
اگر یہ طے ہے زمانہ رَوِش نہ چھوڑے گا
ہجوم شہر سے خود کو ذرا جدا کرنا
جو بات لب پہ نہ آئے اُسے خموشی سے
ہُوا کے دوش پہ لکھ کر بہا دیا کرنا

0
1
کسی کو کھو کے زمانے سے کیا گلہ کرنا
مقدروں کے لکھے کا حساب کیا کرنا
اگر یہ طے ہے زمانہ رَوِش نہ چھوڑے گا
ہجوم شہر سے خود کو ذرا جدا کرنا

0
4
کبھی تو ایسی سحر روشنی سے تر بہ تر آئے
یم بہ یم جس کی کِرَن دل میں اترتی جائے
خود ہی کشتی کو ڈبویا ہے کنارے کے قریب
ناخداؤں سے یہ بستی بھی بچا نا پائے
جن کی آنکھوں میں پڑے سوتے ہیں گونگے سپنے
کاش ان کو بھی جگانے تیرا سورج آئے

0
7
سحر ابھر کر کبھی تو شامِ الم سے آئے
یم بہ یم جس کی کرن دل میں اترتی جائے
خود ہی کشتی کو ڈبویا ہے کنارے کے قریب
ناخداؤں سے یہ بستی بھی بچا نا پائے
جن کی آنکھوں میں پڑے سوتے ہیں گونگے سپنے
کاش ان کو بھی جگانے ترا سورج آئے

0
9
مرتبہ شانِ رسالت کا بیاں سے باہر
ساری مخلوق کے ادراک و گماں سے باہر

0
13
نالے خموش دل کے لبِ غم سیے بغیر
پھیلی ہے کائنات میں لو بھی دیے بغیر
خاموش الفتوں کا یہ انجام دیکھیے
پروانہ جل گیا ہے صدا بھی کیے بغیر
کچھ اس طرح سے ہم نے گزاری ہے زندگی
اک عمر کٹ گئی ہے ہماری جیے بغیر

0
9
بے غم تو یہاں ہم نے کسی کو بھی نہ دیکھا ہے
ہر شخص پریشاں ہے، ہر چہرہ بجھا سا ہے
تنہائی کی راتوں میں جب یاد تیری آئی
آنکھوں میں مری گویا طوفان سا اٹھا ہے
اپنوں نے دیا ہے جو یہ دردِ جگر ہم کو
کیا شرحِ الم کیجے، خاموشی ہی زیبا ہے

0
4
کچھ تو سامانِ سفر اب کہ مہیا کیجیے
عمر کٹنے کو چلی، شہر تو دیکھا کیجیے
لمس ہے آپ کے ہاتھوں کا، مٹے گا کیونکر
دل کو دشمن کی طرح لاکھ مٹایا کیجیے
بات دنیا میں نئی کوئی نہیں ہے لیکن
دل کا قصہ نہ ہمیں روز سنایا کیجیے

0
19
روشنی کم ہو گئی، سائے نمایاں ہو گئے
خواب کیا بکھرے کہ رستے اور ویراں ہو گئے
تذکرہ جن کا کیا تھا ہم نے گلشن میں کبھی
اب وہی قصے مری جاں، دردِ پنہاں ہو گئے
ہم نے جن کو دے دیا تھا زندگی کا ہر ورق
وقت کے ہاتھوں وہی، اک بابِ عنواں ہو گئے

13
زخم زندہ ہے ابھی اور تمنا باقی
ٹوٹے خوابوں سے مگر دل کا سنورنا باقی
ایسا لگتا ہے کسی لب پہ دعا جاری ہے
ہاں بھنور تھا ابھی ساحل پہ اترنا باقی
بعد بارش کے سبھی شمعیں بجھا دو اپنی
کیسے دیکھوں میں پتنگوں کا تڑپنا باقی

0
13
دل کو تمہارے غم نے صحرا بنا دیا
پاؤں کے آبلوں کو دریا پلا دیا
آنسو گرا تو اس کی آواز تو نہ تھی
لیکن یہ کیا کہ اس نے دل کو ہلا دیا

0
11
دل کو تمہارے غم نے صحرا بنا دیا
پاؤں کے آبلوں کو دریا پلا دیا

0
4
بارش نے تیرے غم کو پھر سے جگا دیا
پاؤں کے آبلوں کو دریا پلا دیا

0
10
عکسِ خیال ہی سے سلگنے لگی ہے شام
تجھ کو نہ دیکھ کر بھی مچلنے لگی ہے شام
پھر سے کسی صدا نے ستایا ہے اس قدر
آنگن میں دل کے پھر سے برسنے لگی ہے شام
سوئے ہوئے خیال بھی جاگے ہیں دشت میں
تاروں کی اوٹ سے بھی دہکنے لگی ہے شام

0
9
ہاتھ جو آتا کبھی، پھر سے مچلنے جاتے
دامنِ یزداں سے یہ خواب لپٹنے جاتے
جامۂ صد چاک ہمیں وجہِ تفاخُر تو نہ تھا
شہر میں تھا ہی مگر کون کہ ملنے جاتے
دشتِ تنہائی میں خود سے بھی جو ملنا چاہا
ہم بھی ایسے تھے کہ رستے سے بدلنے جاتے

0
8
ہمارے دل کے افسانے اگر نوکِ زباں پر ہیں
زمیں زادے کہاں جانیں کہ ہم تو آسماں پر ہیں
ترے غم سے ملی فرصت تو خود سے بھی ملیں گے ہم
بہت مدت ہوئی ہم کو خدا جانے کہاں پر ہیں
سفر کی دھول میں ہم نے خود اپنی ذات کھو دی ہے
نشانِ پا بھی مٹتے ہیں مرے مولا جہاں پر ہیں

0
13
عکسِ خیال ہی سے سلگنے لگی ہے شام
تجھ کو نہ دیکھ کر بھی مچلنے لگی ہے شام
پھر سے کسی صدا نے ستایا ہے اس قدر
آنگن میں دل کے پھر سے برسنے لگی ہے شام
سوئے ہوئے خیال بھی جاگے ہیں دشت میں
تاروں کی اوٹ سے بھی دہکنے لگی ہے شام

0
17
عکسِ خیال ہی سے سلگنے لگی ہے آنکھ
تجھ کو نہ دیکھ کر بھی مچلنے لگی ہے آنکھ
پھر سے کسی صدا نے جگایا ہے رات بھر
آنگن میں دل کے پھر سے برسنے لگی ہے آنکھ
سوئے ہوئے خیال بھی جاگے ہیں دشت میں
تاروں کی اوٹ سے بھی دہکنے لگی ہے آنکھ

0
9
اک فسانہ بنا لیا خود کو
غم ٹھکانہ بنا لیا خود کو
اب کوئی چاکِ دل سلے کیوں کر
جب نشانہ بنا لیا خود کو
عمر بھر خود سے روٹھنے والے!
کیوں دیوانہ بنا لیا خود کو

0
12
درد ہی چارہ گر ہوا جائے
ایسے عالم میں کیا کیا جائے
خود سے کی ہے جو گفتگو ہم نے
ایک پردہ تھا اب اٹھا جائے

13
ذوقِ آوارگی تماشا ہے
ہر طرف بندگی تماشا ہے
ہم نے دیکھا ہے بزمِ ہستی میں
رقصِ شرمندگی تماشا ہے
خاک ہو کر بکھر گئے جو لوگ
اُن کی ہی زندگی تماشا ہے

0
13
لب ہلے تھے کہ عشق کا پوچھوں
دل نے ہر سو ہی کربلا دیکھا

0
13
اک فسانہ بنا لیا خود کو
غم ٹھکانہ بنا لیا خود کو
اب کوئی چاکِ دل سلے کیوں کر
جب نشانہ بنا لیا خود کو
عمر بھر خود سے روٹھنے والے!
کیوں دوانہ بنا لیا خود کو

0
13
یہ حادثہ بھی مری بے بسی نے دیکھا ہے
کہ مجھ سے چھن گیا وہ جس کو میں نے جیتا ہے
امیدِ وصل نے لوٹا ہے عمر بھر ہم کو
سرابِ ہجر کو ہم نے خدا سا پوجا ہے
مری انا کا تماشا بنانے والے سن!
میں نے تو خود کو ہی اب قسط وار کھوجا ہے

0
11
کبھی وہ رنگ، کبھی وہ صدا پکارتی ہے
ہمیں تو اپنی ہی اک انتہا پکارتی ہے
ملی ہے زیست کی ڈوری بھی اک اشارے پر
نہ جانے کس کے لبوں کی دعا پکارتی ہے
جو اہلَ ظرف ہیں، وہ خامشی کو سنتے ہیں
انہیں تو دشت میں بھی اک نوا پکارتی ہے

0
16
کہیں پہ نور، کہیں پر غبار رہتا ہے
دلوں کے بیچ عجب انتشار رہتا ہے
وہ دیکھتا ہے جسے آنکھ دیکھ پاتی نہیں
وہی تو ہے جو پسِ روزگار رہتا ہے
عجیب شے ہے یہ اپنے ہی عکس سے ملنا
یہاں تو خود پہ بھی کب اختیار رہتا ہے

0
10
درِ مژہ پہ عجب اک قیام رہتا ہے
نگاہِ شوق میں تیرا ہی نام رہتا ہے
کبھی وہ رنگ، کبھی روشنی، کبھی وہ خواب
درونِ ذات عجب ازدحام رہتا ہے
جہاں پہ ختم ہے حدِ گمانِ اہلِ نظر
وہیں سے عشق کا پہلا مقام رہتا ہے

0
9
وہ لوگ جن پہ کھلا رازِ گفتگو، نہ ملے
کہاں کہاں نہیں پہنچی تھی جستجو، نہ ملے
یہ کائنات کی وسعت بھی ایک پردہ ہے
وہ ہر جگہ تھے مگر پھر بھی کو بہ کو نہ ملے
عجب مقام ہے یہ بھی کہ تھک گئے ہیں قدم
مگر وہ منزلِ جاں جس کی آرزو، نہ ملے

0
11
کہیں پہ پاؤں، کہیں سر دکھائی دیتا ہے
یہ کیسا راہ میں پتھر دکھائی دیتا ہے
میں اپنی ذات کے صحرا میں گم ہوا جب سے
ہر ایک سمت سمندر دکھائی دیتا ہے
جو آنکھ کھول کے دیکھا، سراب دیکھا تھا
کسی کو اب بھی مگر گھر دکھائی دیتا ہے

0
9
سکوتِ شب میں جو اک بازگشت آتی ہے
وہ مجھ کو مجھ سے بہت دور لے کے جاتی ہے
فضا میں بکھرے ہوئے رنگ بولتے ہیں سبھی
مگر یہ آنکھ کہاں سب کو دیکھ پاتی ہے
اسی کے نور کی کرنیں ہیں ذرے ذرے میں
وہی ہے ذات جو منظر کو جگمگاتی ہے

0
11
کہیں پہ ختم یہ صحرا نہیں ہوا ہے ابھی
مرا سفر تو تماشا نہیں ہوا ہے ابھی
بہت سے رنگ ہیں بکھرے ہوئے سرِ مژگاں
مگر وہ عکس جو دھندلا نہیں ہوا ہے ابھی
وہ ایک بات جو سینے میں دفن ہے میرے
اسے کسی نے بھی سوچا نہیں ہوا ہے ابھی

0
12
خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائیں
چلو کہ اب کے ذرا لاشعور ہو جائیں
ہمارے ظرف کا سورج چمکنے والا ہے
شکست کھائیں تو ہم بھی غیور ہو جائیں
مقامِ دید سے آگے بھی ایک منزل ہے
جو ہو سکے تو سراپا حضور ہو جائیں

0
9
کبھی جو حد سے گزرنا ٹھہر گیا ہوگا
وہی تو ہے جو سنورنا ٹھہر گیا ہوگا
عجیب کرب ہے دریا کی خامشی میں بھی
کہ جیسے اس کا اترنا ٹھہر گیا ہوگا
جو بجھ رہا ہے وہ سورج نہیں ہے یاد تری
چراغِ جاں کا ابھرنا ٹھہر گیا ہوگا

0
11
کہیں پہ کوئی نشاں نہ مل جائے
جو کھو گیا ہے جہاں نہ مل جائے
میں ڈھونڈتا ہوں وہ حرفِ سادہ
کہ جس میں کوئی گماں نہ مل جائے
سفر میں ایسے بھی موڑ آئے
کہ اپنا ہی کچھ بیاں نہ مل جائے

0
7
نہ جانے کون سا منظر بدلنے والا ہے
پتنگا جاں سے گزر کر بدلنے والا ہے
وہ ایک ہجرت جو ختم ہی نہیں ہوتی
سنا ہے پھر کوئی گھر بدلنے والا ہے
ہوا کے ہاتھ میں ہے اب کے فیصلہ شاید
شجر کی شاخ کا تیور بدلنے والا ہے

0
10
عجب اک کیف کی صورت مری جاں میں سمائی ہے
بصارت کے دریچوں پر حقیقت مسکرائی ہے
تقاضا دل کا سنتے ہیں شبِ غم کی زبانی بھی
تڑپ کر بھی وہ اب برسے جو گیتوں میں رچائی ہے
سنا ہے دور سے میں نے دھڑکتے دل کے نالوں کو
سماعت نے عجب پر اسرار اک دنیا سجائی ہے

0
11
سکوتِ شب میں عجب نغمگی ابھرتی ہے
سماعتوں پہ نئی روشنی اترتی ہے
میں حرفِ حق کو سجا دوں گا اب لکیروں میں
قلم کی نوک سے جب کائنات ڈھلتی ہے
تلاشِ ذات کے صحرا میں جل بجھے ہم بھی
یہ پیاس روح کے اندر کہیں پنپتی ہے

0
6
رہے نہ اپنی جگہ ہم جگہ بناتے ہوئے
کسی کو ہم نہ دکھے آئنہ دکھاتے ہوئے
عجیب کھیلا ہے قدرت نے عمر بھر ہم سے
شکستہ ہوتے گئے خود کو ہم بناتے ہوئے
وہ ایک خواب جو دیکھا نہیں گیا اب تک
اسی کے نقش ہیں دیوار پر بناتے ہوئے

0
8
کبھی تو بزمِ جہاں سے پرے رہا جائے
کبھی کبھی تو ذرا خود سے بھی ملا جائے
حدودِ خاک سے آگے بھی وسعتیں ہیں بہت
پروں کو کھول کے اب تو کبھی اڑا جائے
یہ کیا کہ روز پرانی وہی کہانی ہو
اب اپنی ذات سے کچھ معتبر کہا جائے

0
11
کبھی تو عکسِ حقیقت عیاں کیا جائے
خود اپنے آپ کو اب رازداں کیا جائے
بہت ہی حبس ہے یادوں کی اس حویلی میں
دریچہ اب کوئی سمتِ گل ستاں کیا جائے
یہ مصلحت کی ردا اب اتار پھینکیں ہم
جو دل میں بات ہے اس کو بیاں کیا جائے

0
9
خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائے
جو دیکھ لے تجھے وہ چور چور ہو جائے
رہِ طلب میں عجب موڑ آ بھی جاتے ہیں
دعا یہی ہے ازالہ ضرور ہو جائے
تپش ہو ایسی مجھے اپنی آگ کی مولا
کہ میرا قلب سراپا ہی نور ہو جائے

0
10
کبھی تو خواب کی تعبیر کا ہنر نکلے
اگر صدف ہوں تو مجھ سے کبھی گہر نکلے
تلاشِ ذات میں نکلا ہوں اپنے اندر سے
دعا کرو کہ یہ میرا سفر ثمر نکلے
ہزاروں آئینے رستوں میں رکھ دیے اس نے
پتا چلے تو سہی رند در بدر نکلے

0
10
درد کی دھوپ میں یادوں کا شجر مل جائے
اب تو رہنے کو کوئی پیارا سا گھر مل جائے
شوقِ آوارگی لے آیا کہاں مقتل میں
ہم تو نکلے تھے کہیں اپنا ہی گھر مل جائے
کتنے طوفان چھپے بیٹھے ہیں خاموشی میں
کون جانے کہ کہاں چشمِ گلِ تر مل جائے

0
5
دلِِ ویراں میں کوئی خواب سجایا جائے
پھر کسی یاد کو چپکے سے بلایا جائے
شہرِ ظلمات میں تنہا کوئی گھومے کب تک
دیپ یادوں کا سرِ عام جلایا جائے
ریت پر لکھے ہوئے نام مٹائے نہ گئے
کاش اس دشت میں اک بار تو آیا جائے

0
9
مقامِ عشق پہ ٹھہری ہے کائنات نئی
ذرا قریب سے سن جو ہوئی ہے بات نئی
وہ شورِ حشر جو برپا تھا گرد و پیش مرے
اسے جو چپ لگی، نکلی ہے ایک بات نئی
میں لفظ لکھتا گیا سب حقیقتوں کی طرح
ہر ایک حرف سے کھلتی ہے کائنات نئی

0
10
کبھی کبھی تو یوں بھی امتحان لیتی ہے
چرا کے دل کو محبت ہی جان لیتی ہے

0
22
زندگی نام کرنا پڑتی ہے
تب محبت ذرا سنبھلتی ہے
یاد تم بے حساب آتے ہو
بھیگے ساون میں شام ڈھلتی ہے
قرض اترے گا کب محبت کا
کم سے کم جان دینا پڑتی ہے

0
18
زندگی نام کرنا پڑتی ہے
تب محبت ذرا سنبھلتی ہے
یاد تم بے حساب آتے ہو
بھیگے ساون میں شام ڈھلتی ہے
قرض اترے گا کب محبت کا
کم سے کم جان دینی پڑتی ہے

0
10
ایک غم ہو تو ذرا رونے سے فرصت پاؤں
ایک دکھ ہو تو اسے صبر کے داماں میں چھپاؤں
رنج اتنے ہیں مری جان سنبھالوں کیسے
ایک ہی دل میں جگہ اتنی کہاں سے لاؤں
چاک دامن پہ کہاں فخر کیا ہے میں نے
شہر میں ہے ہی مگر کون کہ ملنے جاؤں

0
9
دیکھنا جب غزل چھڑی ہوگی
بیچ دریا کے جل پری ہوگی
بے سبب دل اداس کیا ہوگا
کچھ تو آخر وجہ رہی ہوگی
جانے مجنوں کا کیا بنا ہوگا
ریت آنکھوں میں جب پڑی ہوگی

0
17
بے سبب دل اداس کیوں ہوگا
کچھ تو آخر وجہ رہی ہوگی

0
10
بے سبب دل اداس کیوں ہوگا
کچھ تو آخر وجہ رہی ہوگی

0
8
بے سبب دل اداس ہے تیرا
کچھ تو آخر وجہ رہی ہوگی

0
11
تونے چاہا تو ترے نام لگا دی ہم نے
اپنی ہستی بھی مرے عشق مٹا دی ہم نے
دل کے رستے میں رکاوٹ تھی انا کی دیوار
توڑ کر ضبط کے پہروں کو گرا دی ہم نے
گمشدہ کوئی کہانی کا سفر تھا اپنا
خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے

0
28
داستاں بن کے جو بکھرے تو کہاں تک پہنچے
ہم محبت کی زباں بن کے جہاں تک پہنچے
اب نشاں ہے نہ کوئی ہم کو نشاں کی حسرت
جستجو لے کے تری ہم تو وہاں تک پہنچے
جن کو معلوم تھا رستے میں ہی لٹ جانے کا
وہ مسافر بھی خدا جانے کہاں تک پہنچے

0
21
تونے چاہا تو ترے نام لگا دی ہم نے
اپنی ہستی بھی مرے عشق مٹا دی ہم نے
دل کے رستے میں رکاوٹ تھی انا کی دیوار
توڑ کر ضبط کے پہروں کو گرا دی ہم نے
گمشدہ وقت کی کڑیوں کی کہانی کی طرح
خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے

0
28
اب وہ مظلوم خدا جانے کہاں ہیں
ان کی چیخوں کی صداؤں سے جگر پھٹتا ہے
گمشدہ وقت کی کڑیوں کی کہانی کی طرح
خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے

0
19
ہاں سلگ اٹھتا ہے سرِ شام انگارہ دل کا
ہاں اسی درد کے پیکر کو غزل کہتے ہیں

0
13
گو کہ ٹوٹے ہوئے تختے پہ بہے جاتے ہیں
یہ الگ بات خداؤں کی انا باقی ہے

0
8
جانے کیا بوجھ تھا اس شام ہمارے دل پر
کہہ نہ پاتے تو سرِ شام چتائیں جلتیں
جانے کس کرب میں ساحل کو سنایا ہم نے
لہریں اس شعر کو سینے سے لگا کر پلٹیں
لہریں آتی ہیں کنارے پہ اترنے کے لیے
بے خیالی میں مگر خود کو بہا جاتی ہیں

0
26
رنگِ مہر و وفا بابِ جود و سخا جانشینی کا جب مرتبہ مل گیا
جو بھی آیا یہاں در پہ روتا ہوا چین اپنا بھی تج کر سہارا دیا
روحِ الطف نے پائی تھی پوشاک وہ خاص علمِ لدُنّی سے رنگین تھی
سب کرم تھا رسولِ خداؑ کا تبھی سارے عالم میں ہر سو ہی شہرہ رہا
ان کے کاندھوں پہ ہر دم گراں بوجھ تھا اپنے مرشد سے وعدے کی تکمیل کا
پر طبیعت شگفتہ رہی عمر بھر اتنا رتبہ بلندی بھری شان کا

0
19
مثلِ رنگِ سحر روئے تاباں حسیں حسن جس کا نکھرتا رہا ہر گھڑی
گفتگو جیسے موتی پرو دے کوئی لہجہ ایسا کہ چشمہ بہا شہد سا
اک ادا تھی نرالی الگ ہی رہی بات کرنے کی جیسے جھڑی پھول کی
جیسے اندر اترتی ہوئی سی نگہ اور ہونٹوں پہ لپکا وہ مسکان کا
گہرے رازوں سے پردہ ہٹانا مگر اتنی آسان کب تھی طریقت کی راہ
لطف ان کا نمایاں ہوا اس قدر سادہ لفظوں میں ہی سب کو سمجھا دیا

0
17
اک ہجومِ بے کراں کے درمیاں ہے زندگی
اللہ کی رحمت سے پھر بھی مہرباں ہے زندگی
خار ہیں گرچہ بہت پھولوں کی ہر اک شاخ پر
کم سہی پھولوں کے دم سے گلستاں ہے زندگی
شُکر ہے لازم بہت ہر سانس میں اللہ کا
عالمِ ناسوت میں ہر دم رواں ہے زندگی

0
29
روٹھا ہے تجھ سے دل جو کہے بھی تو کیا کہے
کم تو نہیں تھے اس نے جو کاٹے ہیں رتجگے
جب اس جفا نہاد نے چھوڑی نہ کچھ کسر
ہم تو وفا شعار تھے پیچھے نہ رہ سکے
کتنی حسین شام تھی رنگت مگر تھی زرد
دیکھا جو آنسوؤں نے تو چپکے سے جل اٹھے

0
20
نرم خو مثلِ سحر صاحبِ شیریں بیاں
مرشدِ بے مثل تھے در تعلم سالکاں
رہبرِ ہر ذی نفس نوعِ جن و انس وہ
صد شکر مرشد وہی در جہانِ این و آں

0
14
بھول گئے ہم درد پرانے آنسو پینا سیکھ لیا
اب تو اپنی دنیا میں ہی ہم نے جینا سیکھ لیا
چارہ گری اس دل کی جاناں کب کی ہم تو چھوڑ چکے
سچ تو یہ ہے زخمی زخمی ہم نے جینا سیکھ لیا
پیاس لگی تو پینے کو اک بوند نہ پائی لوگوں سے
رکھے تھے پھر محفل میں کہاں جام و مینا سیکھ لیا

0
22
بھول گئے ہم درد پرانے آنسو پینا سیکھ لیا
اب تو اپنی دنیا میں ہی ہم نے جینا سیکھ لیا
چارہ گری اس دل کی جاناں کب کی ہم تو چھوڑ چکے
سچ تو یہ ہے زخمی زخمی ہم نے جینا سیکھ لیا
پیاس لگی تو پینے کو اک بوند نہ پائی لوگوں سے
رکھے تھے پھر محفل میں کہاں جام و مینا سیکھ لیا

0
27
ظلمت نے خود کو نور کا جب نام دے دیا
ہم نے خدا کا نام مٹانے نہیں دیا
اہلِ ہوس نے دن کے اجالے نگل لیے
ہم نے مگر چراغ بجھانے نہیں دیا
باطن میں بھی سیاہ تو ظاہر میں بھی پلید
شیطان کا کلیجہ بھی اس نے کیا ہے قاش

0
13
ظلمت نے خود کو نور کا جب نام دے دیا
ہم نے سحر کا نام مٹانے نہیں دیا
اہلِ ہوس نے دن کے اجالے نگل لیے
ہم نے مگر چراغ بجھانے نہیں دیا
باطن میں بھی سیاہ تو ظاہر میں بھی پلید
شیطان کا کلیجہ بھی اس نے کیا ہے قاش

0
15
مرے دل کی نگہداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
مری تو ہر خوشی ساری تمہارے ہاتھ ہے بابا
تمنا ہے یہی میری ، سکوں دل کا میسر ہو
تڑپتے دل کی دلداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
ادھر منصب ہے ابدالی ادھر رتبہ قلندر کا
سمجھ آیا کہ سرداری تمہارے ہاتھ ہے بابا

0
15
مرے دل کی نگہداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
مری تو ہر خوشی ساری تمہارے ہاتھ ہے بابا
تمنا ہے یہی میری ، سکوں دل کا میسر ہو
تڑپتے دل کی دلداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
ادھر منصب ہے ابدالی ادھر رتبہ قلندر کا
سمجھ آیا کہ سرداری تمہارے ہاتھ ہے بابا

0
12
مرے دل کی نگہداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
مری تو ہر خوشی ساری تمہارے ہاتھ ہے بابا
تمنا ہے یہی میری ، سکوں دل کا میسر ہو
تڑپتے دل کی دلداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
ادھر منصب ہے ابدالی ادھر رتبہ قلندر کا
سمجھ آیا کہ سرداری تمہارے ہاتھ ہے بابا

0
11
لاکھ کوشش سے بھی اک لفظ نہ نکلا منہ سے
نوحہ غم کا جو مری جان گلے میں اٹکا
بھول سکتا ہوں بھلا کیسے وہ لمحہ اے دوست
جس کے سائے میں تری آنکھ سے آنسو ٹپکا
درد کے لمحے بھلائے بھی کہاں جائیں گے
وہ بھی ایسے جو کہیں روح کو چھلنی کر دیں

0
15
منتظر گرچہ رہے جاں سے گزر جانے تک
پیاس باقی نہ رہی جام کے بھر جانے تک
وہ تو سورج تھا اجالوں سے لبالب لبریز
کیا ضرورت تھی اسے شب کے گزر جانے تک
کتنی مدت سے کوئی بوند نہ ٹپکی ہوگی
سوکھے ہونٹوں پہ کسی رند کے مر جانے تک

0
22
منتظر گرچہ رہے جاں سے گزر جانے تک
پیاس باقی نہ رہی جام کے بھر جانے تک
خیر جائیں گے کہاں خود سے گزر جانے تک
یعنی وعدوں سے مگر تیرے مکر جانے تک
وہ تو سورج ہے اسے کیسی ضرورت جاناں
پردۂ شب کی مگر شب کے بکھر جانے تک

0
14
مرکزِ صدق و صفا خواجہ شمس الدین ہیں
سالکوں کے رہنما خواجہ شمس الدین ہیں
سلسلہ قائم ہوا بابا صاحب کے طفیل
سلسلہ جن سے چلا خواجہ شمس الدین ہیں
کاتبِ تقدیر نے رتبہ اعلیٰ لکھ دیا
علمِ لدنی بھی ملا خواجہ شمس الدین ہیں

0
14
ادھر چمن میں نہ پھول کلیاں نہ رنگ کوئی بہار کا ہے
مگر تماشے کو ڈھول باجا بجاتا مجمع ہزار کا ہے
یہ دشت و صحرا سا اک نگر ہے سفر اکارت یہاں کا ٹھہرا
نہ سمت کچھ اس شتر کی یارو نہ ہاتھ کونہ مہار کا ہے
فریب خود کو دیا مسلسل نگر تھا جیسے خدا کی بستی
کھلا یہ شورش کا شور سن کر جو الحذر کی پکار کا ہے

0
16
اور کیا کم تھے حوادث کہ پکارا دل کو
تاک کر تیر محبت نے بھی مارا دل کو
دل کے رتبے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے
کس نے یاسین کے پیکر میں اتارا دل کو
بے خودی چیز ہے کیا کچھ تو سمجھ میں آیا
جب ترے عشق کے صحرا سے گزارا دل کو

10
رات کے پچھلے پہر ٹیس پرانی ابھری
اک کسک جس کے سبب مچلی چلی جاتی ہے
زندگی دور کسی غیر کی نظروں کی طرح
بے سبب دل سے الجھتی سی چلی جاتی ہے
وہ جو خوابوں کے جزیروں سے چنے تھے موتی
ہم نے سوچا تھا فقط ہار پرو لینے کا

18
درد کو دل کے پاس دیکھا ہے
دل کو تنہا اداس دیکھا ہے
پھل تو میٹھا ہے صبر کا لیکن
تار دل کا لباس دیکھا ہے
چاک سینے سے بانسری کی قسم
آتشیں رنگِ یاس دیکھا ہے

0
14
درد کو دل کے پاس دیکھا ہے
دل کو تنہا اداس دیکھا ہے

0
5
کہوں تو کیسے کہ دل غم سے مضمحل نہیں ہوتا
جو گھاؤ روح میں لگتا ہے مندمل نہیں ہوتا

0
7
وزن کم ہے زبان کا لیکن
لوگ کم ہی سنبھال پاتے ہیں

0
17
دل فسردہ تھا بہت دیر رلاتا ہی رہا
خواب در خواب ترا درد جگاتا ہی رہا
بول سکنے کی سکت دل کو نہیں تھی لیکن
تجھ کو لپکی ہوئی بانہوں سے بلاتا ہی رہا
گو تعلق تو بڑی دیر سے ٹوٹا دل بھی
راستہ پاؤں سے لپٹا تھا چلاتا ہی رہا

0
15
*کب یہ معلوم تھا رستے میں بچھڑ جائیں گے*
*خواب آنکھوں میں بساتے ہی اجڑ جائیں گے*
*تجھ کو ہم ٹوٹ کے چاہیں گے نہیں تھا معلوم*
*وہ بھی اتنے کہ کبھی خود سے بھی لڑ جائیں گے*
*عشق جادو کی طرح سر پہ چڑھا جاتا ہے*
*ایسا لگتا ہے کہیں خود سے بچھڑ جائیں گے*

0
13
روگ دل کا ہو مسلسل تو بھی عشرت جانو
عشق میں جینا ہو میسر تو غنیمت جانو
ہر طرف شور ہے پیمانے چھلک جانے کا
بات کرنے کا یہ موقع بھی غنیمت جانو
خواب پلکوں کے کناروں کو بھگو دیں جس پل
بس مری جان اسے دردِ محبت جانو

0
20
کس بھروسے پہ کہوں اتنے برس کا ہوں میں
عمر میری تھی اگر پاس نہ ہوتی میرے
یہ بھی دھوکہ ہے کہوں اتنے برس کا ہوں میں
عمر میری تھی اگر پاس نہ ہوتی میرے
کیسے کہہ دوں کہ سمجھ دیر سے آئی ورنہ
عمر میری تھی اگر پاس نہ ہوتی میرے

0
26
مجھے دیکھتی ہیں تمہاری یہ آنکھیں تو لگتا ہے مجھ کو کہیں ایسا کیونکر
کہ جیسے بدن میں سوا اس نظر کے بچا کچھ نہ ہو تو کروں کیا میں دلبر
نظر آسماں پر چمکتے ہوئے سب ستاروں کو دیکھے تو دل میرا سوچے
مگر کھو گیا اک مرا چین ہی کیوں جسے ڈھونڈتا ہوں ہر اک شام اکثر
ترے میکدے کا ہے چرچا جہاں میں کہ کوئی بھی پیاسا نہیں آ کے جاتا
مرا دل بھی پیاسا ہے یومِ ازل سے پلا دے تو ساقی اسے بھر کے ساغر

0
14
مجھے دیکھتی ہیں تمہاری یہ آنکھیں تو لگتا ہے مجھ کو کہیں ایسا کیونکر
کہ جیسے بدن میں سوا اس نظر کے بچا کچھ نہ ہو تو کروں کیا میں دلبر
نظر آسماں پر چمکتے ہوئے سب ستاروں کو دیکھے تو دل میرا سوچے
مگر کھو گیا اک مرا چین ہی کیوں جسے ڈھونڈتا ہوں ہر اک شام اکثر
ترے میکدے کا ہے چرچا جہاں میں کہ کوئی بھی پیاسا نہیں آ کے جاتا
مرا دل بھی پیاسا ہے یومِ ازل سے پلا دے تو ساقی اسے بھر کے ساغر

0
13
تری نظر سے محبت کو اختیار ملے
وصال گر نہیں ممکن تو ہجر ِیار ملے
قدم اٹھے جو محبت میں پھر رکے ہی نہیں
اگرچہ راہ میں دشمن بھی صد ہزار ملے
کہیں کہیں تو ہمیں بھی خیال آ ہی گیا
ہمیں ہی کوہِ گراں غم کے بار بار ملے

0
27
کوئی ہم سفر نہیں ہے کوئی رہنما نہیں ہے
میں اکیلا رہ گیا ہوں کوئی با خدا نہیں ہے
یہ ادھوری زندگی جو سرِ شام رہ گئی ہے
کوئی چاند ہے نہ تارہ کوئی آسرا نہیں ہے
مرا دل بھی ہے تمہارا مری آنکھیں بھی تمہاری
مرے جسم و جاں میں ہرگز کوئی بے وفا نہیں ہے

0
5
ادب آداب سے پہلے سلامِ عشق جا کہنا
کراچی جانے والو تم مری خاطر دعا کہنا
عنایت ہے خدا کی جو ملی ہے آپ سی ہستی
بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے آپ سا، کہنا
معافی کی مری عرضی جب ان کو پیش کرنا تو
بہت نادم ہے شرمندہ بڑا ہے پر خطا، کہنا

9
وہ ماہِ کامل جو چاندنی سے جہاں میں جلوے بکھیرتا تھا
اداس لوگوں کے آنسوؤں کو جو نرم جذبوں سے پونچھتا تھا
وہ اس کی صورت حسین اتنی کہ دکھ بھی اپنے نہ یاد رہتے
وہ اس کی صحبت کی دلنشینی دلوں کو اجلا بناتی رہتی
لبوں پہ دلکش وہ مسکراہٹ کہ روگ سب کو بھلا ہی دیتی
وہ اک طلسمی وجود ایسا کہ ہر کسی کو وہ اپنا لگتا

0
17
کچی پنسل سے تراشیدہ کسی ندیا کی طرح
زندگی بھی کہیں بل کھا کے گزر جاتی ہے
گاہ پہلو میں کبھی لے کے وہ چلتی ہے اویس
گاہ آنکھوں سے کہیں دور بکھر جاتی ہے
گفتگو آج ہوئی ان سے تو ایسے بھی ہوا
اپنی پلکوں کے کناروں پہ نمی پائی تھی

0
9
کوئی زمانے کو جا کے کہہ دے کمالِ صدقِ خلیل یہ ہیں
خدا بھی نازاں ہے مصطفےٰ پر کہ اس کی روشن دلیل یہ ہیں
سمجھ سے بالا مقام اِن کا کہ شان اِن کی خدا ہی جانے
کہ سارا قرآں ہے نعت اِن کی کمالِ حسنِ جمیل یہ ہیں
یہیں پہ مرکز عطا کا دائم اِنہیں سے بابِ سخا کو نسبت
انہی کے در سے جو چاہو مانگو مرادِ دل کی سبیل یہ ہیں

0
13
اگر ہم بھی کہیں تم کو کبھی بھولے سے یاد آئیں
تمہارے یاد کرنے سے مرا دل اڑتا آئے گا
اسے چپکے سے اک کونے میں جا کر تم جلا دینا
اجالا بن کے آنگن میں تمہیں درپن دکھائے گا
نگاہوں میں رچی ہے اب بھی گلشن کی وہی رنگت
وہی البیلے پھولوں کی مہکتی یاد پیاری سی

0
12
نجانے کیا سبب ہے اب مری جو آنکھ روتی ہے
سبب کوئی نہیں ظاہر مگر آنسو پروتی ہے
بتاؤں کیا کہ یاد اس کی فسوں کیسا جگاتی ہے
کبھی لپکے تو چپکے سے ٹپک کر وہ بھگوتی ہے
کبھی اک زخم بنتا ہے کسی کا ساتھ ہونا بھی
مگر جب وہ بچھڑ جائے بہت تکلیف ہوتی ہے

0
29
منزلوں کی جستجو میں زخم کاری کیا گنوں
فائدہ اب کیا ملے گا اور پیچھے کیا ہٹوں
ہے سمجھ سے ماورا عالم یہ سارا عشق کا
پل میں قربت پل میں دوری اس پہ جاناں کیا کہوں
بے بسی کے باب میں ان کو جو پروا کچھ نہیں
درد ان کے عشق میں کتنا سہوں کیسے سہوں

0
17
یہ رنج و الم بھی عنایت ہیں اس کی مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں ہے
وفا ہو جفا ہو مزاج اپنے اپنے یہ دونوں کی باہم عداوت نہیں ہے
مری جاں لبوں پر جو رہتی ہے لرزاں چلن اس کا ہر پل ستانا جو ٹھہرا
ذرا منصفی سے تمہی خود بتاؤ شرارت میں اس کی قیامت نہیں ہے!
مری زندگی کا فقط ایک مقصد مری جستجو کا وہی ایک مرکز
اسی کی طلب ہے مجھے ہر جہاں میں مری اور کچھ بھی وضاحت نہیں ہے

0
14
دل کو چرا کے تو نے خدا جانے کیا کیا
تیری ادا نے ہم کو دوانہ بنا دیا
بے خود ہوئے تھے ہم جو محبت میں ڈوب کر
وارفتگی سے دل کا خزانہ لٹا دیا
برباد ہیں تو کیا ہے تماشا بنیں تو کیا
تیری بلا سے خود کو دوانہ بنا لیا

0
12
اپنی محبتوں کی ستائش نہ کیجیے
ارزاں حضورِ حسن بھی خواہش نہ کیجیے
ہر شے سے ہے بلند تماشا نہیں ہے عشق
آنسو بہا کے غم کی نمائش نہ کیجیے

0
10
ہجر کی رات بھی آئے گی بھُلا بیٹھے تھے
دیپ پلکوں پہ محبت کا جَلا بیٹھے تھے
پھر نیا درد زمانے کی عنایت سے ملا
داغ دل کا ابھی دھو کے بخدا بیٹھے تھے
بات کچھ اور تھی وہ ان کے بچھڑ جانے کی
ورنہ ہم ان کے لیے خود کو بھلا بیٹھے تھے

0
8
زخم تازہ ہے ابھی اور تماشا باقی
ساغرِ غم کو ذرا چین سے پی لینے دو
ہاتھ پھر کیسے رفو ان کو بھی کرتے ہمدم
دل کے زخموں نے کہا ان سے کہ جی لینے دو

0
15
زخم تازہ ہے ابھی اور تماشا باقی
ساغرِ غم کو ذرا چین سے پی لینے دو
ہاتھ پھر کیسے رفو ان کو بھی کرتے ہمدم
دل کے زخموں نے کہا ان سے کہ جی لینے دو

0
12
کہوں میں کیسے کہ دل غم سے مضمحل نہیں ہوتا
جو گھاؤ روح میں لگتا ہے مندمل نہیں ہوتا
چھلک کے پلکوں پہ آنا بھی مستقل نہیں ہوتا
یہ کیسا غم ہے جو دل سے منتقل نہیں ہوتا
نصابِ عشق کبھی بھی جہانِ گِل نہیں ہوتا
فروغِ عقل و خرد پر وہ مشتمل نہیں ہوتا

0
27
شام ہی سے پلکوں پر دیپ کیوں فروزاں ہیں
غم تمہارے سینے میں یار کتنے سوزاں ہیں

14
اپنی نظر کو آنکھ کے آنسو سے پاک کر
ان کے حضور اپنا گریباں نہ چاک کر
ہرگز خیال خود کا نہ آئے حضورِ عشق
گوہر ملے گا خود کو نشانے پہ تاک کر
وارفتگی ہے شرط محبت کی راہ پر
دامن کے ساتھ اپنا گریباں بھی چاک کر

22
آرزوئے وصل بھی ذوقِ نظر کی بات ہے
قطرہ قطرہ غم لئے قلب و جگر کی بات ہے
عالمِ ناسوت میں اعمال اچھے کر چلو
کہنے کو ہے یہ ادھر پر یہ اُدھر کی بات ہے
اشک گر بہتے رہیں یا ہم انہیں پی کر جئیں
غم ہے ان کے عشق کا اپنے ہی گھر کی بات ہے

17
آرزوئے وصل بھی ذوقِ نظر کی بات ہے
قطرہ قطرہ غم لئے قلب و جگر کی بات ہے
عالمِ ناسوت میں اعمال اچھے کر چلو
کہنے کو ہے یہ ادھر پر یہ اُدھر کی بات ہے
اشک گر بہتے رہیں یا ہم انہیں پی کر جئیں
باتیں دونوں عشق کی اپنے ہی گھر کی بات ہے

13
آرزوئے وصل بھی ذوقِ نظر کی بات ہے
قطرہ قطرہ غم لئے قلب و جگر کی بات ہے
عالمِ ناسوت میں اعمال اچھے کر چلو
کہنے کو ہے یہ ادھر پر یہ اُدھر کی بات ہے
اشک گر بہتے رہیں یا ہم انہیں پی کر جئیں
باتیں دونوں عشق کی اپنے ہی گھر کی بات ہے

9
ذوقِ دل ذوقِ نظر ایک فسانہ ہی سہی
جیسے پہلو میں کوئی تیر ترازو نہ ہوا

24
عہدِ نو میں علم کا بیڑہ اٹھایا آپ نے
پھر سبق توحید کا سب کو پڑھایا آپ نے
کھولے تالے ذہن کے بابا قلندر اولیاء
پردہ سب کی آنکھ کا وہ بھی ہٹایا آپ نے
انفس و آفاق میں اللہ کی قدرت سے وہ
ربط باہم جو بھی ہے وہ سب بتایا آپ نے

41
با ادب ہو کر چلو شہرِ نبی میں ہوشیار
پاؤ گے تم چار سو ہی رحمتِ پروردگار
مژدہ کملی والے کا اب تو ملے بہرِ خدا
جرمِ عصیاں کے سبب ہونے پہ ہوں میں سنگسار
دل سے تو زائر سمجھ شہرِ نبی کا مرتبہ
در پہ عرضی پیش کر رکھ کے جبیں کو بار بار

0
25
با ادب ہو کر چلو شہرِ نبی میں ہوشیار
بانہیں کھولے کہہ رہی ہے رحمتِ پروردگار
مژدہ کملی والے کا اب تو ملے بہرِ خدا
جرمِ عصیاں کے سبب ہونے پہ ہوں میں سنگسار
دل سے تو زائر سمجھ شہرِ نبی کا مرتبہ
در پہ عرضی پیش کر رکھ کے جبیں کو بار بار

0
19
ایک غم ہو تو ذرا رونے سے فرصت پاؤں
ایک دکھ ہو تو اسے صبر کے ہاتھوں کھاؤں
رنج اتنے ہیں مری جان سنبھالوں کیونکر
ایک ہی دل میں جگہ اتنی کہاں سے لاؤں
چاک دامن پہ کوئی فخر نہیں ہے مجھ کو
شہر میں ہے ہی مگر کون کہ ملنے جاؤں

26
مری آہِ شب کو ذرا آج سن لو
مرا بھر دو دامن مجھے آج چن لو

15
فلک پیما ہیں سب جذبے ثریا منزلیں ساری
یہ دھرتی پاک دھرتی ہے عزائم کی شجاعت سے
سمندر جس کا سینہ ہو پہاڑوں سے ہو سر اونچا
عزیمت سے عقیدت سے محبت سے عدالت سے
وہ اٹھا گرد کا بادل گو پھیلی دھند بھی ہر سو
ارادے اپنے پکے ہیں قدم اپنے نہ رک پائیں

0
32
سفر میں ساتھ ہو کر بھی شریکِ غم نہیں ہوتا
یہی اک غم ہے جیون میں کہ صدمہ کم نہیں ہوتا
ہمیں کیا غم تھا ہنس ہنس کر پیالہ ہم بھی پی لیتے
ترے ہاتھوں سے گر ملتا تو اتنا غم نہیں ہوتا
ابھی وہ عشق کیا جانے ابھی وہ لطف کیا پائے
میسر جس کے دل کو بھی نشاطِ غم نہیں ہوتا

0
40
سفر میں ساتھ ہو کر بھی شریکِ غم نہیں ہوتا
یہی اک غم ہے جیون میں کہ صدمہ کم نہیں ہوتا
ہمیں کیا غم تھا ہنس ہنس کر پیالہ ہم بھی پی لیتے
ترے ہاتھوں سے گر ملتا تو اتنا غم نہیں ہوتا
ابھی وہ عشق کیا جانے ابھی وہ لطف کیا پائے
میسر جس کے دل کو بھی نشاطِ غم نہیں ہوتا

0
15
سفر میں ساتھ ہو کر بھی شریکِ غم نہیں ہوتا
یہی اک غم ہے جیون میں کہ صدمہ کم نہیں ہوتا
ہمیں کیا غم تھا ہنس ہنس کر پیالہ ہم بھی پی لیتے
ترے ہاتھوں سے گر ملتا تو اتنا غم نہیں ہوتا
ابھی وہ عشق کیا جانے ابھی وہ لطف کیا پائے
میسر جس کے دل کو بھی نشاطِ غم نہیں ہوتا

0
16
سفر میں ساتھ ہو کر بھی شریکِ غم نہیں ہوتا
یہی اک غم ہے جیون میں کہ صدمہ کم نہیں ہوتا
ہمیں کیا غم تھا ہنس ہنس کر پیالہ ہم بھی پی لیتے
ترے ہاتھوں سے گر ملتا تو اتنا غم نہیں ہوتا
ابھی وہ عشق کیا جانے ابھی وہ لطف کیا پائے
میسر جس کے دل کو بھی نشاطِ غم نہیں ہوتا

0
11
زندگی اپنی تو گزری ہے قیامت جیسی
ہر گھڑی ہاتھ تھا سینے پہ خدا جانتا ہے

0
16
درگاہِ تُو بابِ سخا،
نوعِ جن و انس تیرے فیض سے ہیں مستجاب
علمِ لدُنی کی عطا سے ہیں عظیمی فیض یاب

0
20
چھانا ہے کبھی صحرا ، ڈھونڈا ہے کبھی ساحل
پر تیرا نشیمن تھا اجڑا ہوا میرا دل
انوار فروزاں تھے ہر سمت پہاڑوں پر
رم جھم تھی فضاؤں میں ذروں میں ادھر جھلمل
وہ طور پہ کیا تھا جو موسیٰ نہیں سہہ پائے
اے ذوقِ تجلی تو آ کے کبھی مجھ سے مل

0
10
چھانا ہے کبھی صحرا ڈھونڈا ہے کبھی ساحل
پر تیرا نشیمن تھا اجڑا ہوا میرا دل
انوار فروزاں تھے ہر سمت پہاڑوں پر
رم جھم تھی فضاؤں میں ذروں میں ادھر جھلمل
وہ طور پہ کیا تھا جو موسیٰ نہیں سہہ پائے
اے ذوقِ تجلی تو آ کے کبھی مجھ سے مل

0
7
اب تو دل کا بھی کچھ گلہ کم ہے
بات اتنی سی ہے وفا کم ہے
ہم کو پھر بھی خیال ہے ان کا
جن کا ہم سے ہی رابطہ کم ہے
ان کو دیکھا تو یہ سمجھ آیا
آنکھ سے دل کا فاصلہ کم ہے

0
17
اب تو دل کا بھی کچھ گلہ کم ہے
بات اتنی سی ہے وفا کم ہے
ہم کو پھر بھی خیال ان کا تھا
جن کا ہم سے ہی رابطہ کم ہے
جس کو دیکھو تو سوچ کر دیکھو
آنکھ سے دل کا فاصلہ کم ہے

26
وقت کا لمحہ گزرتا ہے گزر جائے گا
دوست دشمن کا پتا دے کے بکھر جائے گا
ان گنت پہرے مرے شہر کے باشندوں پر
اب خدا جانے مرا شہر کدھر جائے گا
عشق مجنوں کا طرف دار مسلسل ہی سہی
کوئے جاناں میں مگر خاک بسر جائے گا

0
58
وقت کا لمحہ گزرتا ہے گزر جائے گا
دوست دشمن کا پتا دے کے بکھر جائے گا
ان گنت پہرے مرے شہر کے باشندوں پر
اب خدا جانے مرا شہر کدھر جائے گا
عشق مجنوں کا طرف دار مسلسل ہی سہی
کوئے جاناں میں مگر خاک بسر جائے گا

0
9
وقت کا لمحہ گزرتا ہے گزر جائے گا
دوست دشمن کا پتا دے کے بکھر جائے گا
ان گنت پہرے مرے شہر کے باشندوں پر
اب خدا جانے مرا شہر کدھر جائے گا
عشق مجنوں کا طرف دار مسلسل ہی سہی
کوئے جاناں میں مگر خاک بسر جائے گا

13
درد دل میں چھپا کر بھی نبھا ہو سکتا ہے
ورنہ پہلو میں کوئی رہ کے بھی کھو سکتا ہے
رات تو چپ ہے مگر دل میں دھڑکتا ہے کوئی
ایسے عالم میں بھلا کوئی کہاں سو سکتا ہے

0
10
کچھ سہارا نہ ملا دل کو سہارے والا
عمر بھر خود سے رہا جھگڑا تمہارے والا
اب بھی ماؤں کے کلیجوں سے دھواں اٹھتا ہے
سونی گلیوں سے نہ گزرے وہ غبارے والا
ان گنت دنیا کے پرچم بھی حسیں ہیں لیکن
دل میں بستا ہے یہی چاند ستارے والا

0
23
ہر ایک منظر لہو میں ڈوبا ہر ایک کوچے میں حشر برپا
پہاڑ کیسا ستمگروں نے ہمارے سر پر جو آن ڈھایا
سبب اداسی کا یہ نہیں ہے چمن ہمارا اجڑ گیا ہے
ستم تو یہ ہے بھرے چمن کو سبھی نے مل کر اجاڑ ڈالا
وفا کے رستوں کا علم گرچہ سبھی پہ روشن عیاں تھا لیکن
جفا پرستوں نے گنتی جیسے الگ تھلگ سے گنی ہوئی تھی

13
ہو منصفِ خوش بخت کو ہر باب مبارک
اللہ نے جو بخشی ہے تب و تاب مبارک

0
27
اپنی اوقات کو بڑھ چڑھ کے دکھانے کے لیے
سب نے کردار تراشے ہیں ڈرامے کے لیے
ہم کہانی میں کہاں تھے کہ بلائے جاتے
نام اپنا تھا فقط سارے فسانے کے لیے
حاکمِ وقت پہ گزری ہے گراں تر یہ بات
لوگ ٹھہرے تھے وہاں ایک دوانے کے لیے

0
18
اب نہیں خود کو بھی معلوم کدھر جاؤں گا
لوگ جاتے ہیں جدھر میں بھی ادھر جاؤں گا
سب نے ملفوف کئے اپنے لبادے لیکن
خاک ہو کر ترے کوچے کی سنور جاؤں گا
خود کو تقدیر کے لکھے کا مسافر جانا
جب ہوا ان کا اشارہ تو اتر جاؤں گا

0
12
ہر طرف شور ہے ترقی کا
ایسے عالم میں اک حکایت ہے
دوست دشمن تمام غائب ہیں
قلتِ وقت کی شکایت ہے
امن کی جنس ہے گراں مایہ
ناچتے ہیں ہزار سو فتنے

0
23
بس یہی کہہ کے دوانوں کو دوانہ گزرا
دل کو دہلیز پہ ٹھہرے بھی زمانہ گزرا
کچھ سنانے کو نہیں تھا کہ سناتے ہم بھی
جب فسانہ تھے کبھی ہم وہ زمانہ گزرا
خود کو روکے ہوئے ٹھہرے تھے مگر آنکھوں سے
پھر طلسمی سا وہی خواب پرانا گزرا

16
ہم نے سوچا کہ دور ہو جائیں
جن کو اپنی نہیں ضرورت ہے
پھر کبھی بھی پلٹ نہیں پائیں
جن کے دل میں بہت کدورت ہے
جھوٹ رشتے سے کیا توقع اب
کچے رشتے بہت ستاتے ہیں

0
21
ہم نے سوچا کہ دور ہو جائیں
جن کو اپنی نہیں ضرورت ہے
پھر کبھی بھی پلٹ نہیں پائیں
جن کے دل میں بہت کدورت ہے
جھوٹ رشتے سے کیا توقع اب
کچے رشتے بہت ستاتے ہیں

0
20
ملتی جلتی سی ندا نیند اڑا دیتی ہے
کیا کہیں پھر سے محبت وہ صدا دیتی ہے
بات سیدھی سی سمجھ کیوں نہیں آتی تم کو
یہ جو دنیا ہے سبھی رشتے بھلا دیتی ہے
محو حیرت ہیں فرشتے لبِ دریا ماں پر
اپنی اولاد کو دریا میں بہا دیتی ہے

25
ہمارا صبر ثمر ہے ذرا سا رک جاؤ
بہت قریب سحر ہے ذرا سا رک جاؤ
کبھی تو رک کے ذرا جائزہ تو لے لیتے
تمہارا رستہ اِدھر ہے ذرا سا رک جاؤ
تمہیں ہزار اندیشے ہزار بے چینی
یقین تیغ جگر ہے ذرا سا رک جاؤ

0
23
ہمارا صبر ثمر ہے ذرا سا رک جاؤ
بہت قریب سحر ہے ذرا سا رک جاؤ
کبھی تو رک کے ذرا جائزہ تو لے لیتے
تمہارا رستہ اِدھر ہے ذرا سا رک جاؤ
تمہیں ہزار اندیشے ہزار بے چینی
یقین تیغ جگر ہے ذرا سا رک جاؤ

0
10
ہمارا صبر ثمر ہے ذرا سا رک جاؤ
بہت قریب سحر ہے ذرا سا رک جاؤ
کبھی تو رک کے ذرا جائزہ تو لے لیتے
تمہارا رستہ اِدھر ہے ذرا سا رک جاؤ
تمہیں ہزار اندیشے ہزار بے چینی
یقین تیغ جگر ہے ذرا سا رک جاؤ

0
13
سیاہی شب کی اگر جھلملا کے ٹھہری ہے
بہت قریب سحر مسکرا کے ٹھہری ہے
تمہاری زلف پریشاں پہ کیا کہوں جاناں
کہ اک گھٹا سی عجب گنگنا کے ٹھہری ہے
یہ کس مقام سے گزرا ہے قافلہ دل کا
وفا جو ہم پہ غضب تلملا کے ٹھہری ہے

0
18
گئی گزری باتوں میں کیا دل لگانا
نئے دور کو بھی چلو آج چن لیں
یہ برقی پیامی فضاؤں میں اڑ کر
کہانی غضب کی سناتے ہیں سن لیں
کہیں پر اُڑی ہے خبر رونقوں کی
کہیں ناگہانی سی باتیں سنی ہیں

22
یہ دل اور جاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
کہ سود و زیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
خیالوں میں خوابوں میں ہر دم تمہی ہو
کہ وہم و گماں بھی تمہارے ہوئے ہیں
یقیں اپنے ہونے پہ اب تو نہیں ہے
کہ لفظ و بیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں

39
یہ دل اور جاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
کہ سود و زیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
خیالوں میں خوابوں میں ہر دم تمہی ہو
کہ وہم و گماں بھی تمہارے ہوئے ہیں
یقیں اپنے ہونے پہ اب تو نہیں ہے
کہ لفظ و بیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں

12
آگ سی لگا دی ہے بارشوں کے پانی نے
کیا ستم نہیں ڈھائے اپنی اس کہانی نے
قوس سات رنگوں کی دور تک جو بکھری ہے
یاد کیا دلا ڈالا دل کو اس دِوانی نے
بانکپن بھی چھینا ہے عشق کرکے ظالم سے
کتنا بوڑھا کر ڈالا ہم کو اس جوانی نے

39
چاہتے تم ہنسا بھی سکتے تھے
دشت میں گل کھلا بھی سکتے تھے
درد دل میں دبا رہا برسوں
درد دل کا بہا بھی سکتے تھے
ساری دنیا بہا کے لے جاتا
ایسا طوفاں اٹھا بھی سکتے تھے

0
11
کہنا چاہتا ہوں ہنسی اپنی سنا دے اک بار
وہ جو چاہے تو ابھی جھرنا بہا دے اک بار
قہر ہی قہر تو ویسے بھی ہیں رقصاں ہر سو
حشرِ ساماں سے کہو حشر اٹھا دے اک بار
بات جو دل سے نکلتی ہے لبوں تک نہیں آتی
ہو جو ممکن تو سبھی پردے گرا دے اک بار

0
9
کہنا چاہتا ہوں ہنسی اپنی سنا دے اک بار
وہ جو چاہے تو ابھی جھرنا بہا دے اک بار
قہر ہی قہر تو ویسے بھی ہیں رقصاں ہر سو
حشرِ ساماں سے کہو حشر اٹھا دے اک بار
بات جو دل سے نکلتی ہے لبوں تک نہیں آتی
ہو جو ممکن تو سبھی پردے گرا دے اک بار

0
27
اک غزل سی وہ گنگنانے میں
سب فسانے ہیں اس فسانے میں
کس قدر حوصلہ ضروری ہے
بے سبب یونہی مسکرانے میں
اور کتنے کرو گے تم احساں
جھک گئی ہے کمر اٹھانے میں

0
10
ہائے نیرنگیاں زمانے کی
کیا سناؤں میں اس فسانے کی
ایک غم تھا جو اب نہیں باقی
بات باقی نہیں سنانے کی
زندگی ہر گھڑی تماشا ہے
ہوگئی بھول دل لگانے کی

0
24
تمہارے غمزدہ چہرے نہیں جو دیکھ پاتے ہیں
تو اپنا دل لہو کرکے تمہارا غم مناتے ہیں
غزہ کی ساری بستی میں لہو کی داستاں بکھری
یہودی ہندہ سے بڑھ کر جگر ان کا چباتے ہیں
خدا جانے تھمے گا کب تسلسل بربریت کا
خدا جانے یہ نوحے کب مسلماں کو جگاتے ہیں

0
15
گدا ہوں میں ان کی گلی کا گدا ہوں
ازل سے میں ان کے ہی در پر جھکا ہوں
شفاعت کی دولت کا طالب ہوں مفلس
جبیں رکھ کے قدموں میں ان کے پڑا ہوں
مری التجاؤں کا ملجیٰ وہی ہیں
وضو کرکے اشکوں سے حاضر ہوا ہوں

0
14
گدا ہوں میں ان کی گلی کا گدا ہوں
ازل سے میں ان کے ہی در پر جھکا ہوں
شفاعت کی دولت کا طالب ہوں مفلس
جبیں رکھ کے قدموں میں ان کے پڑا ہوں
مری التجاؤں کا ملجیٰ وہی ہیں
وضو کرکے اشکوں سے حاضر ہوا ہوں

0
10
گدا ہوں میں ان کی گلی کا گدا ہوں
ازل سے میں ان کے ہی در پر جھکا ہوں
شفاعت کی دولت کا طالب ہوں مفلس
جبیں رکھ کے قدموں میں ان کے پڑا ہوں
مری التجاؤں کا ملجیٰ وہی ہیں
وضو کرکے اشکوں سے حاضر ہوا ہوں

0
12
گدا ہوں میں ان کی گلی کا گدا ہوں
ازل سے میں ان کے ہی در پر جھکا ہوں
شفاعت کی دولت کا طالب ہوں مفلس
جبیں رکھ کے قدموں میں ان کے پڑا ہوں
مری التجاؤں کا ملجیٰ وہی ہیں
وضو کرکے اشکوں سے حاضر ہوا ہوں

0
10
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
قسم اپنے رب کی دعا ہم کریں گے
جفا دل پہ سہہ کر وفا ہم کریں گے
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
ہمیں چھوڑ کر جب نہ پاؤ گے ہم کو

0
11
برسا ہے بادل روئی زمیں ہے
دل غم سے خالی کوئی نہیں ہے
کس کس کو روؤں کس کس کو ڈھونڈوں
کوئی کہیں ہے کوئی کہیں ہے
دل میں چبھی ہے حسرت کسی کی
پتھر ہوئی ہے روئی نہیں ہے

31
متاع فکر و نظر کب کسی کو ملتی ہے
کھلے جو غم کا سبب تب کسی کو ملتی ہے
عجیب تر ہے تماشا فریب ہستی کا
گزر گئی جو گھڑی کب کسی کو ملتی ہے
ہزار غم کی فضا میں دھنک کی پروائی
یہ عکس غم کی جھڑی کب کسی کو ملتی ہے

0
19
دھند کیسی ہے جو رستے سے نہیں چھٹتی ہے
اک قدم سامنے منزل بھی نہیں دکھتی ہے
ان کے چہرے کی چمک اور وہ آنکھوں کا سحر
مٹ تو سکتی ہے نظر ان سے کہاں ہٹتی ہے
چارہ گر پاس نہیں اور عجب حالت دل
شمع امید بھی لگتا ہے ابھی بجھتی ہے

0
13
گو بات آج کی ہے مگر ہر زماں کی بات
تشریح کائنات کے گہرے ہیں سب نکات
ظاہر میں خط کشیدہ حوالوں کا ذکر خوب
کیا کیا نہیں ہوئی ہیں سبھی پر توجہات
گہرے دبیز راز بھی افشا کیے گئے
انساں سمجھ رہا تھا زمانے کو شش جہات

0
7
پھیلی ہوئی ہے عظمت و طاقت خیال کی
سب نے ہی مان لی ہے حکومت خیال کی
کہنے کو اک خیال تھا جس سے گزر گئے
لیکن ہزار صدیوں پہ سطوت خیال کی
عزم الامور جانیے ہمت کی بات ہے
اپنی کنہ میں یہ بھی ہے عظمت خیال کی

36
کس کو معلوم تھا کب رستہ بدل جائے گا
وہ بھی انجان سی منزل کے مسافر کی طرح

16
سوئے مدینہ دل کے سبھی قافلے چلے
رستے تمام عشق سے مہکے ہوئے ملے
ان کے وجود پاک کی عظمت ہو کیا بیاں
خوشبو بتا رہی ہے کہ اس سمت وہ گئے
یومِ ازل سے لے کے حدودِ ابد تلک
ان کے کمال حسن کے جلوے ملے مجھے

20
گزرے ہوئے زماں سے حدودِ ابد تلک
ان کے کمال حسن کے جلوے ملے مجھے

13
گزرے ہوئے زماں سے حدودِ ابد تلک
ان کے کمال حسن کے جلوے ملے مجھے

0
15
بکھری ہوئی نظر کو سمیٹوں میں کس طرح
ان کے کمال حسن سے گھبرا کے پی گیا

11
ہم کو معلوم نہ تھا جب سے محبت کی تھی
زندگی اپنی بڑی شان سے غارت کی تھی
ہم کو ہر شخص نے دنیا میں دوانہ جانا
جس کسی شخص سے ملنے میں مروت کی تھی
ہائے جب جان بھی آئی ہے لبوں پر اپنے
تب کھلا راز محبت بڑی شدت کی تھی

0
23
اس نے دیوار اٹھائی ہے اٹھی رہنے دو
اب تعلق میں پڑا فرق سبھی رہنے دو
وہ جو اک ٹیس اٹھا کرتی ہے دل میں اکثر
دل یہ کہتا ہے علاج اس کا ابھی رہنے دو
گر لحاظ ان کو نہیں شرم و حیا داری کا
قدر کچھ ہے کہ نہیں تم تو ابھی رہنے دو

24
بہت تکلیف ہوتی ہے محبت کرنے والوں کو
مگر پھر بھی فسوں دل سے محبت کا نہیں جاتا
عجب منظر نگاہوں میں ابھرتے ہیں بکھرتے ہیں
مگر یہ رنگ ہلکا سا بھی الفت کا نہیں جاتا
کہیں گہرا کہیں دھندلا عجب اک عکس ٹھہرا ہے
بہت چاہا مگر وہ عکس حسرت کا نہیں جاتا

0
9
وہ یہ سمجھے تھے اندھیرے میں بھٹک جاؤں گا
دیپ پلکوں پہ جلے اور اجالا پھیلا
ان کی دانست میں گمنام تھا جینا مرنا
لطف ایسا ہوا ہر سمت حوالہ پھیلا

0
11
چوٹ دل پر پڑی زخم رستے رہے
لاکھ روکا مگر اشک بہتے رہے
کاش تھمنے کا لیتے کہیں نام غم
جان و دل میں وہ ہر پل دہکتے رہے
آنکھ چندھیا گئی روشنی میں ادھر
گھپ اندھیرے میں ہم بھی بھٹکتے رہے

0
16
ان کی راہوں سے ملیں جب سے یہ راہیں اپنی
ہم نے خود سے بھی چرا لی ہیں نگاہیں اپنی
جان و دل ہوش گنوا کر بھی ہیں خنداں لیکن
رنگ کب لائیں گی شب ہجر دعائیں اپنی

15
ہم نے سیکھا ہی نہیں کچھ بھی گزرتے پل سے
ورنہ اتنا بھی بُرا آج نہ ہوتا کل سے
ہم نے زم زم سے نہا کر بھی نہ پائی منزل
ورنہ غیروں نے تو پائی ہیں مرادیں جل سے
اب کے شہروں میں بھی نافذ ہیں قوانیں ایسے
کم تو لگتے ہی نہیں شہر کسی جنگل سے

28
رنگ جو غم سے کبھی دل کے اتر جائیں گے
عشق نسبت سے مری جان سنور جائیں گے
روح ڈوبی ہے ترے پیار میں پوروں پوروں
یہ نہ سمجھو کہ محبت میں بکھر جائیں گے
ہم نے دیکھا ہی نہیں اپنے ارادوں کی طرف
تونے دیکھا ہے جدھر ہم بھی ادھر جائیں گے

18
کتنا اس ٹھگنے کے چلن میں ہے کینہ ہر پل
جب سے دیکھا اسے پایا ہے کمینہ ہر پل
مونھ پہ پڑتی ہوئی پھٹکار پہ توبہ توبہ
اور مردود کا وہ گٹھتا ہوا سینہ ہر پل
سامنے اس کے تو شیطاں بھی نہیں ہے کچھ بھی
چین اللہ کے بندوں کا ہے چھینا ہر پل

0
25
کتنا اس ٹھگنے کے چلن میں ہے کینہ ہر پل
جب سے دیکھا اسے پایا ہے کمینہ ہر پل

15
مرے آنسوؤں سے ابھری یہ صدائے آرزو ہے
نہ ہی ضبط غم ہے دل کو نہ ہی پاس میرے تو ہے
کوئی گمشدہ مسافر جسے کارواں سے بچھڑے
بڑی دیر ہوگئی ہے مجھے اس کی جستجو ہے
کسی شاخِ غم سے لپٹی جو چلی صبا چمن سے
ہے اسی کی سب کرامت یہ جو سانس مشکبو ہے

27
تونے دیکھی ہی نہیں عشق کی خاطر داری
کتنی رنگین ہوئی آنکھ کی چلمن چلمن
اب جہاں میں ہوں وہاں خواب کی حسرت ہی نہیں
تونے سیکھا ہے بہت دیر سے تعبیر کا فن

19
گنگ منظر ہیں سب اور سماں قید ہے
اے نظر ڈھونڈ اس کو جہاں قید ہے
لاکھ اس کو کیا قید خانے میں بند
جیتا پھر بھی وہی تو کہاں قید ہے
پاس جس کے نہیں پاس احساس کا
دل تو قیدی ہوا اس کی جاں قید ہے

23
پاس جس کے نہیں احساس مروت کا اویس
لاکھ دولت ہو میسر پہ امیری تو نہیں

0
11
درد میں ڈوب کر جان و دل کھو گئے
کیا تھے ہم اور اب کیا سے کیا ہو گئے
کتنے نزدیک تھے کتنے اب دور ہیں
کیا ستم ہے ستم اوڑھ کر سو گئے
زندگی دھوپ میں جلتی بجھتی رہی
دشت میں چھوڑ کر تم کہاں کھو گئے

98
درد میں ڈوب کر جان و دل کھو گئے
کیا تھے ہم اور اب کیا سے کیا ہو گئے

24
مری بزم دل کی تمہی دلکشی ہو
مری ہر خوشی ہو مری زندگی ہو
نکھارا ہے تم نے رخ برگ ایمن
برنگِ سحر بس تمہی روشنی ہو
نگاہیں تمنا کی منزل کو ڈھونڈیں
تری بندگی میں مری مخلصی ہو

36
مجھے بت خانے کی راہوں نے ہی میخوار کیا
پھر زمانے کی نگاہوں میں گنہ گار کیا
ہم جلیسوں کو مسیحاؤں کو دل والوں کو
اک مرے قتل نے قاتل کا طرفدار کیا
تم جسے چاہو اسے بخش دو الفت اپنی
ہم نے خود کو تو جفاؤں کا سزاوار کیا

14
کیسی یہ کشمکش ہے قسمت کی چال سے
بہلا رہا ہوں خود کو میں کس کے خیال سے
اپنی ہی ذات سے ہم کرنے لگے گریز
کیسی یہ بے خودی ہے دل کے سوال سے
سہتا رہا ہے دل جو ان کے ستم ہزار
معلوم ہو رہا ہے چہرے کے حال سے

19
دریا میں سمندر میں ہواؤں میں تمہی ہو
اس خاک پہ افلاک کی راہوں میں تمہی ہو
پلکوں پہ چمکتے ہوئے موتی بھی تمہارے
دھڑکن کی ہر اک لہر کی بانہوں میں تمہی ہو
میں لوح مقدر پہ ترے امر سے ابھرا
ڈوبی ہوئی نبضوں کی نگاہوں میں تمہی ہو

37
چوٹ دل کی بہت پرانی ہے
رت ہوا کی مگر سہانی ہے
آنکھ روشن چراغ کی مانند
آرزو دل کی جاودانی ہے
سارے کردار غم اٹھاتے ہیں
کیا عجب عشق کی کہانی ہے

36
خواب لے کر پھرے ہے دیوانی
آنکھ دل کی ہوئی ہے مستانی
اک گھٹا سی جو زلف لہرائی
عشوہ و ناز و حشر سامانی
زندگی تو ہمیں کہاں لائی
اب نہ دل ہے نہ دل کی ویرانی

38
رستے تمہاری خاطر دل نے سجا دیئے ہیں
چن چن کے کانٹے اس نے سارے ہٹا دیئے ہیں
پلکوں پہ وہ جو اترے موتی سے کم نہیں تھے
ہم کو قسم تمہاری موتی لٹا دیئے ہیں
صحرا کی خاک چھانی جس نے مسافرت میں
اس نے تو راستوں میں دریا بہا دیئے ہیں

57
بے تاب آئینے کی نگاہوں کی دھوم ہے
حیرت کدے میں کیسی صداؤں کی دھوم ہے
بے نور صبحیں اہلِ خرد کو نصیب ہوں
نگری میں دل جلوں کی تو شاموں کی دھوم ہے
قوسِ قزح کے رنگوں میں میرا ہے عکسِ دل
میری ہی زندگی کے فسانوں کی دھوم ہے

33
گہری دبیز دھند میں پھر سال کھو گیا
ہم کو جگا کے جانے کہاں جا کے سو گیا
دل نے حساب درد محبت کو ٹھپ دیا
سمجھے تھے ہم کہ دل کا سبھی کام ہو گیا
پلکوں کی نرم چھاؤں کنارے ہی دل مرا
رستہ تمہارا دیکھتے سر شام سو گیا

15
نظم: ہائے۔ (کلام: اویس الحسن)
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
ذکر تھا تجھ سے ملاقات کی حسرت کا اویس
جس کا ہر شعر دھواں بن کے اٹھا تھا دل سے
تذکرہ جبکہ چھڑا درد کی شدت کا اویس
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی

11
ہر چند جام غم کے ترے عشق میں پئے
پھر بھی ترے خیال سے روشن کئے دیئے
کچھ بھی خیال دل کا نہیں ہے انہیں ذرا
ہم نے تو آہ لب پہ مچلنے پہ لب سیے

11
ہر چند جام غم کے ترے عشق میں پئے
پھر بھی ترے خیال سے روشن کئے دیئے
کچھ بھی خیال دل کا نہیں ہے انہیں ذرا
ہم نے تو آہ لب پہ مچلنے پہ لب سیے

0
4
ہر چند جام غم کے ترے عشق میں پئے
پھر بھی ترے خیال سے روشن کئے دیئے
کچھ بھی خیال دل کا نہیں ہے انہیں ذرا
ہم نے تو آہ لب پہ مچلنے پہ لب سیے

5
خاک میں ملتے ہوئے شیشہ بدن دیکھے ہیں
دہر میں جلتے ہوئے کتنے چمن دیکھے ہیں

6