| زندگی نام کرنا پڑتی ہے |
| تب محبت ذرا سنبھلتی ہے |
| یاد تم بے حساب آتے ہو |
| بھیگے ساون میں شام ڈھلتی ہے |
| قرض اترے گا کب محبت کا |
| کم سے کم جان دینی پڑتی ہے |
| ایک غم ہو تو ذرا رونے سے فرصت پاؤں |
| ایک دکھ ہو تو اسے صبر کے داماں میں چھپاؤں |
| رنج اتنے ہیں مری جان سنبھالوں کیسے |
| ایک ہی دل میں جگہ اتنی کہاں سے لاؤں |
| چاک دامن پہ کہاں فخر کیا ہے میں نے |
| شہر میں ہے ہی مگر کون کہ ملنے جاؤں |
| ایک غم ہو تو ذرا رونے سے فرصت پاؤں |
| ایک دکھ ہو تو اسے صبر کے ہاتھوں کھاؤں |
| رنج اتنے ہیں مری جان سنبھالوں کیونکر |
| ایک ہی دل میں جگہ اتنی کہاں سے لاؤں |
| چاک دامن پہ کوئی فخر نہیں ہے مجھ کو |
| شہر میں ہے ہی مگر کون کہ ملنے جاؤں |
| بہت تکلیف ہوتی ہے محبت کرنے والوں کو |
| مگر پھر بھی فسوں دل سے محبت کا نہیں جاتا |
| عجب منظر نگاہوں میں ابھرتے ہیں بکھرتے ہیں |
| مگر یہ رنگ ہلکا سا بھی الفت کا نہیں جاتا |
| کہیں گہرا کہیں دھندلا عجب اک عکس ٹھہرا ہے |
| بہت چاہا مگر وہ عکس حسرت کا نہیں جاتا |