گہری دبیز دھند میں پھر سال کھو گیا
ہم کو جگا کے جانے کہاں جا کے سو گیا
دل نے حساب درد محبت کو ٹھپ دیا
سمجھے تھے ہم کہ دل کا سبھی کام ہو گیا
پلکوں کی نرم چھاؤں کنارے ہی دل مرا
رستہ تمہارا دیکھتے سر شام سو گیا
جھونکے کا روپ دھار کے آیا کہاں سے تھا
چپکے سے بیج دل میں محبت کا بو گیا
پوچھا جو دلبری سے کہ لٹتا ہے کس طرح
کہنے لگی قرار محبت میں وہ گیا

15