| گہری دبیز دھند میں پھر سال کھو گیا |
| ہم کو جگا کے جانے کہاں جا کے سو گیا |
| دل نے حساب درد محبت کو ٹھپ دیا |
| سمجھے تھے ہم کہ دل کا سبھی کام ہو گیا |
| پلکوں کی نرم چھاؤں کنارے ہی دل مرا |
| رستہ تمہارا دیکھتے سر شام سو گیا |
| جھونکے کا روپ دھار کے آیا کہاں سے تھا |
| چپکے سے بیج دل میں محبت کا بو گیا |
| پوچھا جو دلبری سے کہ لٹتا ہے کس طرح |
| کہنے لگی قرار محبت میں وہ گیا |
معلومات