منتظر گرچہ رہے جاں سے گزر جانے تک
پیاس باقی نہ رہی جام کے بھر جانے تک
خیر جائیں گے کہاں خود سے گزر جانے تک
یعنی وعدوں سے مگر تیرے مکر جانے تک
وہ تو سورج ہے اسے کیسی ضرورت جاناں
پردۂ شب کی مگر شب کے بکھر جانے تک
کتنی مدت سے کوئی بوند نہ ٹپکی ہوگی
خشک ہونٹوں پہ کسی رند کے مر جانے تک
ساتھ بلبل کے زمانہ بھی فدا تھا یارو
عارضِ گل سے مگر رنگ بکھر جانے تک
کتنے بے تاب تھے تکنے کو زمانے والے
ہاں مگر چاند پسِ بام اتر جانے تک
غش پڑے جاتے ہیں کلیوں کے پنپنے ہی سے
جانے کیا ہوگا کسی گل کے سنور جانے تک
شوق اتنا بھی نہیں در پہ پڑے رہنے کا
اک ذرا صبر مگر زخم کے بھر جانے تک
کچھ ہمیں عشق نہیں تجھ سے زیادہ ورنہ
جیتے رہتے نہ کبھی جاں سے گزر جانے تک
ہم اویسؔ ان سے کوئی عرض کریں بھی کیونکر
وہ تو اٹھ جاتے ہیں کرسی سے اُدھر جانے تک

0
14