| عجب اک کیف کی صورت مری جاں میں سمائی ہے |
| بصارت کے دریچوں پر حقیقت مسکرائی ہے |
| تقاضا دل کا سنتے ہیں شبِ غم کی زبانی بھی |
| تڑپ کر بھی وہ اب برسے جو گیتوں میں رچائی ہے |
| سنا ہے دور سے میں نے دھڑکتے دل کے نالوں کو |
| سماعت نے عجب پر اسرار اک دنیا سجائی ہے |
| کتابِ آگہی میں درج ہیں سب کائناتی رنگ |
| یہ وہ دانش ہے جو ہم نے ریاضت سے کمائی ہے |
| گواہی دے رہا ہے اب ترا فن ہی زمانے میں |
| قلم کی نوک پر اویس کیا خوشبو بسائی ہے |
معلومات