| درد کو دل کے پاس دیکھا ہے |
| دل کو تنہا اداس دیکھا ہے |
| پھل تو میٹھا ہے صبر کا لیکن |
| تار دل کا لباس دیکھا ہے |
| چاک سینے سے بانسری کی قسم |
| آتشیں رنگِ یاس دیکھا ہے |
| جانے کیا سوچ کر کہا اس نے |
| خود سا تونے اداس دیکھا ہے |
| دل کو روکا تھا جس گلی سے اویس |
| اس گلی میں ہی خاص دیکھا ہے |
معلومات