درد کو دل کے پاس دیکھا ہے
دل کو تنہا اداس دیکھا ہے
پھل تو میٹھا ہے صبر کا لیکن
تار دل کا لباس دیکھا ہے
چاک سینے سے بانسری کی قسم
آتشیں رنگِ یاس دیکھا ہے
جانے کیا سوچ کر کہا اس نے
خود سا تونے اداس دیکھا ہے
دل کو روکا تھا جس گلی سے اویس
اس گلی میں ہی خاص دیکھا ہے

0
14