| با ادب ہو کر چلو شہرِ نبی میں ہوشیار |
| بانہیں کھولے کہہ رہی ہے رحمتِ پروردگار |
| مژدہ کملی والے کا اب تو ملے بہرِ خدا |
| جرمِ عصیاں کے سبب ہونے پہ ہوں میں سنگسار |
| دل سے تو زائر سمجھ شہرِ نبی کا مرتبہ |
| در پہ عرضی پیش کر رکھ کے جبیں کو بار بار |
| ایک ہی انمول شے لے کر چلو تم زائرو |
| دل فگار و دل فگار و دل فگار و دل فگار |
معلومات