| کسی کو کھو کے زمانے سے کیا گلہ کرنا |
| مقدروں کے لکھے کا حساب کیا کرنا |
| اگر یہ طے ہے زمانہ رَوِش نہ چھوڑے گا |
| ہجوم شہر سے خود کو ذرا جدا کرنا |
| جو بات لب پہ نہ آئے اُسے خموشی سے |
| ہُوا کے دوش پہ لکھ کر بہا دیا کرنا |
| وہ جس نے سیکھ لیا ہے سکوت کا عالم |
| اُسے فضول کی باتوں سے کیا خفا کرنا |
| بدل گئے ہیں جو رستے تو پھر پلٹ کے نہ دیکھ |
| مسافروں سے پرانے پتے پتا کرنا |
| ہُوا کے سامنے جلتے چراغ کی صورت |
| وفائے عہد پہ قائم رہے، دعا کرنا |
| رکھا ہے دل میں چھپا کر جو درد کا عالم |
| ڈبو ڈبو کے اسی میں غزل لکھا کرنا |
معلومات