| کبھی تو خواب کی تعبیر کا ہنر نکلے |
| اگر صدف ہوں تو مجھ سے کبھی گہر نکلے |
| تلاشِ ذات میں نکلا ہوں اپنے اندر سے |
| دعا کرو کہ یہ میرا سفر ثمر نکلے |
| ہزاروں آئینے رستوں میں رکھ دیے اس نے |
| پتا چلے تو سہی رند در بدر نکلے |
| میں حرفِ حق ہوں، مٹایا نہ جا سکوں گا کبھی |
| عدو دبانے کو مجھ کو اِدھر ادھر نکلے |
| رہِ طلب میں تھکن کا سوال ہی کیا ہے |
| اویس رستے میں حق کے اٹھا کے سر نکلے |
معلومات