| منتظر گرچہ رہے جاں سے گزر جانے تک |
| پیاس باقی نہ رہی جام کے بھر جانے تک |
| وہ تو سورج تھا اجالوں سے لبالب لبریز |
| کیا ضرورت تھی اسے شب کے گزر جانے تک |
| کتنی مدت سے کوئی بوند نہ ٹپکی ہوگی |
| سوکھے ہونٹوں پہ کسی رند کے مر جانے تک |
| جانے کیوں تاک میں رہتے ہیں حوادث اکثر |
| عارضِ گل سے مگر رنگ بکھر جانے تک |
| شوق اتنا بھی نہیں در پہ پڑے رہنے کا |
| اک ذرا صبر مگر زخم کے بھر جانے تک |
| کچھ ہمیں عشق نہیں تجھ سے زیادہ ورنہ |
| جیتے رہتے نہ کبھی جاں سے گزر جانے تک |
| ہم اویسؔ ان سے کوئی عرض کریں بھی کیونکر |
| وہ تو اٹھ جاتے ہیں کرسی سے اُدھر جانے تک |
معلومات