| رات کے پچھلے پہر ٹیس پرانی ابھری |
| اک کسک جس کے سبب مچلی چلی جاتی ہے |
| زندگی دور کسی غیر کی نظروں کی طرح |
| بے سبب دل سے الجھتی سی چلی جاتی ہے |
| وہ جو خوابوں کے جزیروں سے چنے تھے موتی |
| ہم نے سوچا تھا فقط ہار پرو لینے کا |
| سیلِ غم تیز خدا جانے کہاں سے اٹھا |
| ایک لمحہ تھا مگر خواب گنوا دینے کا |
| زندگی درد کے دریا سے کنارہ کرکے |
| بھیگے ساحل سے کہیں دور چلی جاتی ہے |
| اس سے پوچھو تو یہی کہہ کے گزر جائے گی |
| ڈوبتے شخص کی آواز کہاں آتی ہے |
| اور کیا کم تھے حوادث کہ پکارا دل کو |
| تاک کر تیر محبت نے بھی مارا دل کو |
معلومات