رات کے پچھلے پہر ٹیس پرانی ابھری
اک کسک جس کے سبب مچلی چلی جاتی ہے
زندگی دور کسی غیر کی نظروں کی طرح
بے سبب دل سے الجھتی سی چلی جاتی ہے
وہ جو خوابوں کے جزیروں سے چنے تھے موتی
ہم نے سوچا تھا فقط ہار پرو لینے کا
سیلِ غم تیز خدا جانے کہاں سے اٹھا
ایک لمحہ تھا مگر خواب گنوا دینے کا
زندگی درد کے دریا سے کنارہ کرکے
بھیگے ساحل سے کہیں دور چلی جاتی ہے
اس سے پوچھو تو یہی کہہ کے گزر جائے گی
ڈوبتے شخص کی آواز کہاں آتی ہے
اور کیا کم تھے حوادث کہ پکارا دل کو
تاک کر تیر محبت نے بھی مارا دل کو

18