| اور کیا کم تھے حوادث کہ پکارا دل کو |
| تاک کر تیر محبت نے بھی مارا دل کو |
| دل کے رتبے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے |
| کس نے یاسین کے پیکر میں اتارا دل کو |
| بے خودی چیز ہے کیا کچھ تو سمجھ میں آیا |
| جب ترے عشق کے صحرا سے گزارا دل کو |
| دیکھی کچھ گرد غموں کی تو بہے تھے آنسو |
| اس طرح تیری محبت میں سنوارا دل کو |
| تم کو معلوم نہیں ہم نے تری راہوں میں |
| کتنے ارمان سے خوشیوں سے تھا ہارا دل کو |
معلومات