اور کیا کم تھے حوادث کہ پکارا دل کو
تاک کر تیر محبت نے بھی مارا دل کو
دل کے رتبے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے
کس نے یاسین کے پیکر میں اتارا دل کو
بے خودی چیز ہے کیا کچھ تو سمجھ میں آیا
جب ترے عشق کے صحرا سے گزارا دل کو
دیکھی کچھ گرد غموں کی تو بہے تھے آنسو
اس طرح تیری محبت میں سنوارا دل کو
تم کو معلوم نہیں ہم نے تری راہوں میں
کتنے ارمان سے خوشیوں سے تھا ہارا دل کو

10