ہمارے دل کے افسانے اگر نوکِ زباں پر ہیں
زمیں زادے کہاں جانیں کہ ہم تو آسماں پر ہیں
ترے غم سے ملی فرصت تو خود سے بھی ملیں گے ہم
بہت مدت ہوئی ہم کو خدا جانے کہاں پر ہیں
سفر کی دھول میں ہم نے خود اپنی ذات کھو دی ہے
نشانِ پا بھی مٹتے ہیں مرے مولا جہاں پر ہیں
کبھی لگتا ہے کھوئے سے چلے جاتے ہیں ہم لیکن
کبھی لگتا ہے کھوئے تھے جہاں ہم تو وہاں پر ہیں
عجب اعجاز ہے تیرا ہمیں ڈھونڈا تھا دنیا نے
نظر کب اس کو آئیں گے اگرچہ آستاں پر ہیں
سنیں کیا ہم جو کہتی ہے یہ دنیا اس سفر میں بھی
مگر پروا نہیں ان کی کہ سب اپنے گماں پر ہیں
اویس ان کی نگاہوں میں اگر دل بھی نہیں جچتا
تو اٹھ جاؤ وہاں سے تم کہ وہ اپنے زیاں پر ہیں

0
6