وقت کا لمحہ گزرتا ہے گزر جائے گا
دوست دشمن کا پتا دے کے بکھر جائے گا
ان گنت پہرے مرے شہر کے باشندوں پر
اب خدا جانے مرا شہر کدھر جائے گا
عشق مجنوں کا طرف دار مسلسل ہی سہی
کوئے جاناں میں مگر خاک بسر جائے گا
رات خود شمع نے بجھنے کی دعائیں مانگیں
ورنہ جل جل کے یہ پروانہ تو مر جائے گا
بات اتنی سی اگر کوئی سمجھ پائے تو
خاک ہوگا تو یہ کچھ اور سنور جائے گا
غیروں کی طرح تو بھی اے دلِ بیزار مرے
بے ارادہ ہی سہی مجھ سے مکر جائے گا
ساحلِ وصل پہ اترے گا سفینہ اپنا
ہجر دریا بھی کسی روز اتر جائے گا
رات پھر شہر کو نگلیں گی کسی کی آنکھیں
بھوک لے کر وہ کہاں آج بھی گھر جائے گا
میں اویس اس کو بھلا چھوڑ کے جاؤں کیسے
چھوڑ کر مجھ کو وہ چاہے تو گزر جائے گا

0
58