زخم تازہ ہے ابھی اور تماشا باقی
ساغرِ غم کو ذرا چین سے پی لینے دو
ہاتھ پھر کیسے رفو ان کو بھی کرتے ہمدم
دل کے زخموں نے کہا ان سے کہ جی لینے دو

0
12