گدا ہوں میں ان کی گلی کا گدا ہوں
ازل سے میں ان کے ہی در پر جھکا ہوں
شفاعت کی دولت کا طالب ہوں مفلس
جبیں رکھ کے قدموں میں ان کے پڑا ہوں
مری التجاؤں کا ملجیٰ وہی ہیں
وضو کرکے اشکوں سے حاضر ہوا ہوں
مری جھولی خالی ہے بھر دو خدارا
مرے ہاتھ کیا میں سراپا دعا ہوں
میں ان کی گلی کا ازل سے ہوں نوکر
انہی کے کرم سے جو در پر کھڑا ہوں
عرب بھی انہیں کا عجم بھی انہیں کا
انہیں دیکھتا ہوں جدھر جا رہا ہوں
سبھی انبیاء نے کیا عہد ان کا
میں حیرت سے شانِ کرم دیکھتا ہوں
ہے ارضِ مقدس بھی ڈوبی لہو میں
اے امت کے والی لہو لا رہا ہوں
مرا نام کیا ہے نہ پوچھو یہ مجھ سے
مجھے کیا غرض اب ہے نام و نشاں سے
میں دنیا میں رہ کر فنا در فنا ہوں
مری چارہ سازی کریں آپ خود ہی
میں پیکر ہوں غم کا الم کی صدا ہوں

0
10