مقامِ عشق پہ ٹھہری ہے کائنات نئی
ذرا قریب سے سن جو ہوئی ہے بات نئی
وہ شورِ حشر جو برپا تھا گرد و پیش مرے
اسے جو چپ لگی، نکلی ہے ایک بات نئی
میں لفظ لکھتا گیا سب حقیقتوں کی طرح
ہر ایک حرف سے کھلتی ہے کائنات نئی
پرانی راہوں کی دھول اڑ گئی ہے اب تو میاں
قدم قدم پہ پکارے ہے اب حیات نئی
نظر جو بدلی تو بدلے ہوئے ہیں سب منظر
دکھائی دینے کو ہے راہ ممکنات نئی
گواہ رہنا کہ ہم نے ہی پہلے دیکھا ہے
قلم کی نوک پہ ٹھہری ہے کائنات نئی
کھلے جو بابِ ِحقیقت اویس کے دل پر
سجائی عشق نے ہے ایک کائنات نئی

0
3