| عکسِ خیال ہی سے سلگنے لگی ہے آنکھ |
| تجھ کو نہ دیکھ کر بھی مچلنے لگی ہے آنکھ |
| پھر سے کسی صدا نے جگایا ہے رات بھر |
| آنگن میں دل کے پھر سے برسنے لگی ہے آنکھ |
| سوئے ہوئے خیال بھی جاگے ہیں دشت میں |
| تاروں کی اوٹ سے بھی دہکنے لگی ہے آنکھ |
| خوابوں کے اس سفر میں کوئی ہمسفر نہ تھا |
| بس اک دیئے کی لو میں پگھلنے لگی ہے آنکھ |
| دیکھا جو آئینے میں تو خود کو نہ پا سکے |
| اک اجنبی سے ہجر میں جلنے لگی ہے آنکھ |
| تھک کر میں اپنی ذات میں بہتا چلا گیا |
| خاموش رہ کے پھر بھی برسنے لگی ہے آنکھ |
معلومات