| اگر ہم بھی کہیں تم کو کبھی بھولے سے یاد آئیں |
| تمہارے یاد کرنے سے مرا دل اڑتا آئے گا |
| اسے چپکے سے اک کونے میں جا کر تم جلا دینا |
| اجالا بن کے آنگن میں تمہیں درپن دکھائے گا |
| نگاہوں میں رچی ہے اب بھی گلشن کی وہی رنگت |
| وہی البیلے پھولوں کی مہکتی یاد پیاری سی |
| ابھی تک ہے تروتازہ تری تصویر آنکھوں میں |
| کڑے موسم میں باقی تھی جو اپنی بے قراری بھی |
| اگر ہم بھی کہیں تم کو کبھی بھولے سے یاد آئیں |
| کہیں انجان رستوں پر کہیں سنسان گلیوں میں |
| وہیں تم لمحہ بھر رک کر ذرا پھر غور سے مڑنا |
| پڑے ہوں گے ابھی میرے وہاں ارمان گلیوں میں |
| اگر ہم بھی کہیں تم کو کبھی بھولے سے یاد آئیں |
| تو اپنی بھول سے کہنا ہمیں کیوں یاد کرتی ہے |
| تمنا دل کی شاہد ہے پلک تک بھی نہیں جھپکی |
| محبت اپنی آتش سے ہمیں برباد کرتی ہے |
| اگر ہم بھی کہیں تم کو کبھی بھولے سے یاد آئیں |
| نگاہیں سب نگاہوں سے چرانا تم کو پڑ جائے |
| کسی کنکر کا آنکھوں میں بہانہ تم بنا لینا |
| کہیں ایسا نہ ہو تم سے بہانہ کچھ نہ بن پائے |
| عجب کیا ہے جو دنیا میں کبھی کچھ دن بھی شاد آئیں |
| اگر ہم بھی کہیں تم کو کبھی بھولے سے یاد آئیں |
معلومات