چوٹ دل کی بہت پرانی ہے
رت ہوا کی مگر سہانی ہے
آنکھ روشن چراغ کی مانند
آرزو دل کی جاودانی ہے
سارے کردار غم اٹھاتے ہیں
کیا عجب عشق کی کہانی ہے
پھر کوئی موج دل سے ٹکرائی
ساحل چشم پانی پانی ہے
کوئی پوچھے تو کیا بتائیں ہم
بچپنا کیا تھا کیا جوانی ہے
اب اسے کیا سنبھال کر رکھنا
ریت مٹھی کی زندگانی ہے
ظرف والے ہی اہل ہیں اس کے
غم کہانی تو خاندانی ہے
جاگتا ہوں کہ نیند آتی نہیں
کیسے خوابوں کی رائیگانی ہے

36