اپنی اوقات کو بڑھ چڑھ کے دکھانے کے لیے
سب نے کردار تراشے ہیں ڈرامے کے لیے
ہم کہانی میں کہاں تھے کہ بلائے جاتے
نام اپنا تھا فقط سارے فسانے کے لیے
حاکمِ وقت پہ گزری ہے گراں تر یہ بات
لوگ ٹھہرے تھے وہاں ایک دوانے کے لیے
ہم تو بس یونہی ذرا دیر کو ہنس پڑتے تھے
غم چلے آئے سبق ہم کو سکھانے کے لیے
لوگ معذور ہیں خود اپنی طبیعت کے سبب
ورنہ سامان تو لاکھوں ہیں ہنسانے کے لیے

0
18