| نالے خموش دل کے لبِ غم سیے بغیر |
| پھیلی ہے کائنات میں لو بھی دیے بغیر |
| خاموش الفتوں کا یہ انجام دیکھیے |
| پروانہ جل گیا ہے صدا بھی کیے بغیر |
| کچھ اس طرح سے ہم نے گزاری ہے زندگی |
| اک عمر کٹ گئی ہے ہماری جیے بغیر |
| ساغر ملا نہ ہم کو نہ ساغر کی ہے طلب |
| ممکن نہ تھا سکون مئے غم پیے بغیر |
| تڑپے ہیں اس قدر جو اویسؔ ان کی یاد میں |
| آنسو بہا دیے ہیں تماشہ کیے بغیر |
معلومات