بس یہی کہہ کے دوانوں کو دوانہ گزرا
دل کو دہلیز پہ ٹھہرے بھی زمانہ گزرا
کچھ سنانے کو نہیں تھا کہ سناتے ہم بھی
جب فسانہ تھے کبھی ہم وہ زمانہ گزرا
خود کو روکے ہوئے ٹھہرے تھے مگر آنکھوں سے
پھر طلسمی سا وہی خواب پرانا گزرا
جی بہلتا تھا کبھی کرکے تصور اس کا
اب تو لگتا ہے کہ اس کا بھی بہانہ گزرا

16