| بس یہی کہہ کے دوانوں کو دوانہ گزرا |
| دل کو دہلیز پہ ٹھہرے بھی زمانہ گزرا |
| کچھ سنانے کو نہیں تھا کہ سناتے ہم بھی |
| جب فسانہ تھے کبھی ہم وہ زمانہ گزرا |
| خود کو روکے ہوئے ٹھہرے تھے مگر آنکھوں سے |
| پھر طلسمی سا وہی خواب پرانا گزرا |
| جی بہلتا تھا کبھی کرکے تصور اس کا |
| اب تو لگتا ہے کہ اس کا بھی بہانہ گزرا |
معلومات