روشنی کم ہو گئی، سائے نمایاں ہو گئے
خواب کیا بکھرے کہ رستے اور ویراں ہو گئے
تذکرہ جن کا کیا تھا ہم نے گلشن میں کبھی
اب وہی قصے مری جاں، دردِ پنہاں ہو گئے
ہم نے جن کو دے دیا تھا زندگی کا ہر ورق
وقت کے ہاتھوں وہی، اک بابِ عنواں ہو گئے
دل کی بستی میں چراغِ آرزو بجھنے کو ہے
دوست بھی جانے کہاں، مٹی میں پنہاں ہو گئے
کون جانے کس گھڑی کیا حادثہ درپیش ہو
بام و در تک دیکھتے، ہم خود ہی حیراں ہو گئے
اویس الحسنؔ اب تو، خود سے ہی دوری ہوئی
روشنی کم ہو گئی، سائے نمایاں ہو گئے

0
5