برسا ہے بادل روئی زمیں ہے
دل غم سے خالی کوئی نہیں ہے
کس کس کو روؤں کس کس کو ڈھونڈوں
کوئی کہیں ہے کوئی کہیں ہے
دل میں چبھی ہے حسرت کسی کی
پتھر ہوئی ہے روئی نہیں ہے
دیکھا جو ہم کو طوفاں کی زد میں
ساحل پہ اب تو کوئی نہیں ہے
چاہت تمہاری صدمے اٹھا کر
پرکھا ہے دل کو کھوئی نہیں ہے
دل کی تمنا رستے پہ تیرے
بکھری ہے لیکن سوئی نہیں ہے

31