کتنا اس ٹھگنے کے چلن میں ہے کینہ ہر پل
جب سے دیکھا اسے پایا ہے کمینہ ہر پل
مونھ پہ پڑتی ہوئی پھٹکار پہ توبہ توبہ
اور مردود کا وہ گٹھتا ہوا سینہ ہر پل
سامنے اس کے تو شیطاں بھی نہیں ہے کچھ بھی
چین اللہ کے بندوں کا ہے چھینا ہر پل
سامری راہ بدل جاتا ہے بھرم کی خاطر
خبثِ باطن سے بھرا ہے یہ کمینہ ہر پل
چال سے جیسے زنانہ کوئی چلتا جائے
اور بدبخت کا اتراتے ہوئے جینا ہر پل

0
25