| بے تاب آئینے کی نگاہوں کی دھوم ہے |
| حیرت کدے میں کیسی صداؤں کی دھوم ہے |
| بے نور صبحیں اہلِ خرد کو نصیب ہوں |
| نگری میں دل جلوں کی تو شاموں کی دھوم ہے |
| قوسِ قزح کے رنگوں میں میرا ہے عکسِ دل |
| میری ہی زندگی کے فسانوں کی دھوم ہے |
| خوشہ نشینِ گلشنِ دلبر کو دو خبر |
| پھولوں سے بڑھ کے اس کے تو کانٹوں کی دھوم ہے |
| پروردگار اب تو مجھے شاد کام کر |
| ویرانیوں میں دل کے پھپھولوں کی دھوم ہے |
| منزل قریب جان کے نکلے تھے ہم سفر |
| لیکن مسافرت میں تو رستوں کی دھوم ہے |
| رنگیں نوائی دل کو بھلے خوش نما لگے |
| دستورِ زندگی میں خزاؤں کی دھوم ہے |
| افتادِ پائے دشتِ تمنا کی خیر ہو |
| افتادگی کے دم سے نظاروں کی دھوم ہے |
معلومات