خواب لے کر پھرے ہے دیوانی
آنکھ دل کی ہوئی ہے مستانی
اک گھٹا سی جو زلف لہرائی
عشوہ و ناز و حشر سامانی
زندگی تو ہمیں کہاں لائی
اب نہ دل ہے نہ دل کی ویرانی
وہ بھی اپنے فریب میں گم تھے
قدر دل کب کسی نے ہے جانی
مجھ کو ہر پل ہی دوش دیتے ہو
اپنی صورت کبھی ہے پہچانی!
اب نہیں یاد کچھ ذرا سا بھی
لگ رہی ہے کہانی انجانی
ہاں تصور میں عکس دکھتا ہے
وہ جو صورت تھی جانی پہچانی

38