| خواب لے کر پھرے ہے دیوانی |
| آنکھ دل کی ہوئی ہے مستانی |
| اک گھٹا سی جو زلف لہرائی |
| عشوہ و ناز و حشر سامانی |
| زندگی تو ہمیں کہاں لائی |
| اب نہ دل ہے نہ دل کی ویرانی |
| وہ بھی اپنے فریب میں گم تھے |
| قدر دل کب کسی نے ہے جانی |
| مجھ کو ہر پل ہی دوش دیتے ہو |
| اپنی صورت کبھی ہے پہچانی! |
| اب نہیں یاد کچھ ذرا سا بھی |
| لگ رہی ہے کہانی انجانی |
| ہاں تصور میں عکس دکھتا ہے |
| وہ جو صورت تھی جانی پہچانی |
معلومات