اب وہ مظلوم خدا جانے کہاں ہیں
ان کی چیخوں کی صداؤں سے جگر پھٹتا ہے
گمشدہ وقت کی کڑیوں کی کہانی کی طرح
خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے

0
6