| ملتی جلتی سی ندا نیند اڑا دیتی ہے |
| کیا کہیں پھر سے محبت وہ صدا دیتی ہے |
| بات سیدھی سی سمجھ کیوں نہیں آتی تم کو |
| یہ جو دنیا ہے سبھی رشتے بھلا دیتی ہے |
| محو حیرت ہیں فرشتے لبِ دریا ماں پر |
| اپنی اولاد کو دریا میں بہا دیتی ہے |
| تم نے انساں پہ ترحم نہ کیا تھا ورنہ |
| ایک دعا بز کی شہنشاہ بنا دیتی ہے |
| سینہ چھلنی ہے مگر اس پہ بھی نازاں ہو کر |
| بنسری سوز محبت کا جگا دیتی ہے |
| تم تو حجت ہو زمانے میں تمہیں کیا معلوم |
| یہ محبت ہے سرِ عام نچا دیتی ہے |
| خود کو نایاب سمجھتے ہیں زمانے والے |
| دیپ ہستی کا اجل یونہی بجھا دیتی ہے |
معلومات