ملتی جلتی سی ندا نیند اڑا دیتی ہے
کیا کہیں پھر سے محبت وہ صدا دیتی ہے
بات سیدھی سی سمجھ کیوں نہیں آتی تم کو
یہ جو دنیا ہے سبھی رشتے بھلا دیتی ہے
محو حیرت ہیں فرشتے لبِ دریا ماں پر
اپنی اولاد کو دریا میں بہا دیتی ہے
تم نے انساں پہ ترحم نہ کیا تھا ورنہ
ایک دعا بز کی شہنشاہ بنا دیتی ہے
سینہ چھلنی ہے مگر اس پہ بھی نازاں ہو کر
بنسری سوز محبت کا جگا دیتی ہے
تم تو حجت ہو زمانے میں تمہیں کیا معلوم
یہ محبت ہے سرِ عام نچا دیتی ہے
خود کو نایاب سمجھتے ہیں زمانے والے
دیپ ہستی کا اجل یونہی بجھا دیتی ہے

25