ادھر چمن میں نہ پھول کلیاں نہ رنگ کوئی بہار کا ہے
مگر تماشے کو ڈھول باجا بجاتا مجمع ہزار کا ہے
یہ دشت و صحرا سا اک نگر ہے سفر اکارت یہاں کا ٹھہرا
نہ سمت کچھ اس شتر کی یارو نہ ہاتھ کونہ مہار کا ہے
فریب خود کو دیا مسلسل نگر تھا جیسے خدا کی بستی
کھلا یہ شورش کا شور سن کر جو الحذر کی پکار کا ہے
عجب تماشا ہے عبرتوں کا کہ لاشے لے کر بھٹک رہے ہیں
یہ روپ دھارے ہوئے درندے نشہ لہو کے خمار کا ہے
یہ حبس موسم کی بے حسی جو اپنا جیون نگل رہی ہے
یہ حشر برپا گناہ گارو خدا کی ساری ہی مار کا ہے
اگر یہ کہہ دوں تو کیا برا ہے جو چپ بھی سادھوں تو ٹھیک ہوگا
کہ تیر ترکش میں لے کے بیٹھا وہ ہاتھ اپنے ہی یار کا ہے
میں سٹپٹا کر ہی رہ گیا تھا سوال مجھ سے کسی نے پوچھا
سوال یہ تھا کہ شہر تیرا بتاؤ کس کے مزار کا ہے
کہیں پہ رنگت نہ بو گلوں کی نہ سرو قامت نظر میں آئے
ہمیں بھی تسلیم یہ چمن ہے یہی مزاج اپنے یار کا ہے
اویس کچھ کچھ سمجھ تو پائے چراغ لمحوں کی دوستی سے
کہ رتجگوں سے مہکنے والا مزا تو سارا ہی ہار کا ہے

0
16