| ہر ایک منظر لہو میں ڈوبا ہر ایک کوچے میں حشر برپا |
| پہاڑ کیسا ستمگروں نے ہمارے سر پر جو آن ڈھایا |
| سبب اداسی کا یہ نہیں ہے چمن ہمارا اجڑ گیا ہے |
| ستم تو یہ ہے بھرے چمن کو سبھی نے مل کر اجاڑ ڈالا |
| وفا کے رستوں کا علم گرچہ سبھی پہ روشن عیاں تھا لیکن |
| جفا پرستوں نے گنتی جیسے الگ تھلگ سے گنی ہوئی تھی |
| وہ بے ضمیری کے سائے سائے مگن پڑے تھے وہاں پہ لیکن |
| ادھر قیامت کا دھوپ منظر کہ جان و دل پر بنی ہوئی تھی |
معلومات