ہر ایک منظر لہو میں ڈوبا ہر ایک کوچے میں حشر برپا
پہاڑ کیسا ستمگروں نے ہمارے سر پر جو آن ڈھایا
سبب اداسی کا یہ نہیں ہے چمن ہمارا اجڑ گیا ہے
ستم تو یہ ہے بھرے چمن کو سبھی نے مل کر اجاڑ ڈالا
وفا کے رستوں کا علم گرچہ سبھی پہ روشن عیاں تھا لیکن
جفا پرستوں نے گنتی جیسے الگ تھلگ سے گنی ہوئی تھی
وہ بے ضمیری کے سائے سائے مگن پڑے تھے وہاں پہ لیکن
ادھر قیامت کا دھوپ منظر کہ جان و دل پر بنی ہوئی تھی

13