درِ مژہ پہ عجب اک قیام رہتا ہے
نگاہِ شوق میں تیرا ہی نام رہتا ہے
کبھی وہ رنگ، کبھی روشنی، کبھی وہ خواب
درونِ ذات عجب ازدحام رہتا ہے
جہاں پہ ختم ہے حدِ گمانِ اہلِ نظر
وہیں سے عشق کا پہلا مقام رہتا ہے
وہ لوگ جن کو میسر ہے آگہی کی تڑپ
انہی کے ہاتھ میں سچ کا زمام رہتا ہے
بغیر سجدہِ باطن نہیں ہے کوئی نجات
لبوں پہ ورنہ تو ذکرِ تمام رہتا ہے
اویس! ضبط کی منزل بھی مل ہی جائے گی
ابھی تو عشق میں قصہ ناتمام رہتا ہے

0
2