یہ رنج و الم بھی عنایت ہیں اس کی مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں ہے
وفا ہو جفا ہو مزاج اپنے اپنے یہ دونوں کی باہم عداوت نہیں ہے
مری جاں لبوں پر جو رہتی ہے لرزاں چلن اس کا ہر پل ستانا جو ٹھہرا
ذرا منصفی سے تمہی خود بتاؤ شرارت میں اس کی قیامت نہیں ہے!
مری زندگی کا فقط ایک مقصد مری جستجو کا وہی ایک مرکز
اسی کی طلب ہے مجھے ہر جہاں میں مری اور کچھ بھی وضاحت نہیں ہے
عبارت میں اس کی اشارت میں اس کی ارادت میں اس کی فراست میں اس کی
اگر میں نظر میں مسلسل ہوں اس کی تو پھر مجھ سے پردہ کرامت نہیں ہے!
نظر جب جھکے تو یہ دل بیٹھ جائے نظر جب اٹھے تو سکوں دل کو آئے
تمہی زندگی ہو مری اس جہاں میں تمہارے بِنا کچھ تمازت نہیں ہے
مجھے حکم تھا تو چکھا ذائقہ بھی نہ ہوتا تو کیونکر وہاں پاس جاتا
یہ منشا مشیت خدا کی تھی ورنہ مری کچھ بھی کوئی جسارت نہیں ہے
یہ بندہ اُویس الحسن ہے وفا کا یہی سوچ لو تم عداوت سے پہلے
اگر جرم دل کا وفا کی ہیں باتیں تو اس جرم پر کچھ ندامت نہیں ہے

0
14