تمہارے غمزدہ چہرے نہیں جو دیکھ پاتے ہیں
تو اپنا دل لہو کرکے تمہارا غم مناتے ہیں
غزہ کی ساری بستی میں لہو کی داستاں بکھری
یہودی ہندہ سے بڑھ کر جگر ان کا چباتے ہیں
خدا جانے تھمے گا کب تسلسل بربریت کا
خدا جانے یہ نوحے کب مسلماں کو جگاتے ہیں
صلاح الدین کو یا پھر محمد ابن قاسم کو
بریدہ جسم و دل ان کو مسلسل ہی بلاتے ہیں
کہیں امت محمد کی نظر ہی اب نہیں آتی
قیامت کی گھڑی آئی محمد کو سناتے ہیں
کوئی غم خوار دنیا میں کہیں بھی اب نہیں شاید
تبھی کافر مسلماں کو جو چن چن کر ستاتے ہیں
بہت صدیاں زبوں حالی مقدر بن گئی اپنا
مگر طوقِ غلامی بھی نہیں اپنا گراتے ہیں
لہو میں لتھڑے ہاتھوں سے دعا کی لاج رکھ لینا
بہت نادم ہیں ہم مولا سبھی پردے گراتے ہیں

0
15