ہاتھ جو آتا کبھی، پھر سے مچلنے جاتے
دامنِ یزداں سے یہ خواب لپٹنے جاتے
جامۂ صد چاک ہمیں وجہِ تفاخُر تو نہ تھا
شہر میں تھا ہی مگر کون کہ ملنے جاتے
دشتِ تنہائی میں خود سے بھی جو ملنا چاہا
ہم بھی ایسے تھے کہ رستے سے بدلنے جاتے
عشق نے ہم کو سکھایا ہے بکھر کر جینا
ورنہ اوروں کی طرح ہم بھی بکھرنے جاتے
اے دلِ زار، یہ دنیا ہے تماشائی محض
کیوں یہاں ہم بھی کسی غم میں پگھلنے جاتے
دُور تک پھیل گئی شورِ ہوس کی دنیا
کس کو فرصت تھی کہ اِک لمحہ ٹھہرنے جاتے
دھول اڑتی ہے ہر اک موڑ پہ سچائی کے
ہم ہی ناداں تھے جو سچ بات پہ اڑنے جاتے
کب بدلتے ہیں زمانے کے بدلنے سے اویس
ہم تو سچ بول کے دنیا سے سنورنے جاتے

0
3