| کہیں پہ پاؤں، کہیں سر دکھائی دیتا ہے |
| یہ کیسا راہ میں پتھر دکھائی دیتا ہے |
| میں اپنی ذات کے صحرا میں گم ہوا جب سے |
| ہر ایک سمت سمندر دکھائی دیتا ہے |
| جو آنکھ کھول کے دیکھا، سراب دیکھا تھا |
| کسی کو اب بھی مگر گھر دکھائی دیتا ہے |
| سنائی دیتی ہے خاموشی کی زباں اب تو |
| سخن سے بڑھ کے تو منظر دکھائی دیتا ہے |
| نہیں ہے علم کی حد، بس یقین کی حد ہے |
| بغیر پر کے بھی شہپر دکھائی دیتا ہے |
| اویس! ضبط کی چادر کو اوڑھ کر دیکھو |
| وہی جو نورِ مقدر دکھائی دیتا ہے |
معلومات