| زخم تازہ ہے ابھی اور تماشا باقی |
| ساغرِ غم کو ذرا چین سے پی لینے دو |
| ہاتھ پھر کیسے رفو ان کو بھی کرتے ہمدم |
| دل کے زخموں نے کہا ان سے کہ جی لینے دو |
| زخم تازہ ہے ابھی اور تماشا باقی |
| ساغرِ غم کو ذرا چین سے پی لینے دو |
| ہاتھ پھر کیسے رفو ان کو بھی کرتے ہمدم |
| دل کے زخموں نے کہا ان سے کہ جی لینے دو |
معلومات