| دھند کیسی ہے جو رستے سے نہیں چھٹتی ہے |
| اک قدم سامنے منزل بھی نہیں دکھتی ہے |
| ان کے چہرے کی چمک اور وہ آنکھوں کا سحر |
| مٹ تو سکتی ہے نظر ان سے کہاں ہٹتی ہے |
| چارہ گر پاس نہیں اور عجب حالت دل |
| شمع امید بھی لگتا ہے ابھی بجھتی ہے |
| دل سے الجھی ہے عجب اپنے ہی دل کی خواہش |
| کشمکش ان کی خدا جانے کہاں تھمتی ہے |
معلومات