دھند کیسی ہے جو رستے سے نہیں چھٹتی ہے
اک قدم سامنے منزل بھی نہیں دکھتی ہے
ان کے چہرے کی چمک اور وہ آنکھوں کا سحر
مٹ تو سکتی ہے نظر ان سے کہاں ہٹتی ہے
چارہ گر پاس نہیں اور عجب حالت دل
شمع امید بھی لگتا ہے ابھی بجھتی ہے
دل سے الجھی ہے عجب اپنے ہی دل کی خواہش
کشمکش ان کی خدا جانے کہاں تھمتی ہے

0
13