| خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائے |
| جو دیکھ لے تجھے وہ چور چور ہو جائے |
| رہِ طلب میں عجب موڑ آ بھی جاتے ہیں |
| دعا یہی ہے ازالہ ضرور ہو جائے |
| تپش ہو ایسی مجھے اپنی آگ کی مولا |
| کہ میرا قلب سراپا ہی نور ہو جائے |
| انا کی قید سے اب تو نکال دے مجھ کو |
| معاف اب تو یہ میرا قصور ہو جائے |
| کتابِ زیست کا اگلا ورق پلٹنا ہے |
| تمام یہ کہیں قصہ حضور ہو جائے |
| بنا دے خود کو تو ایسا اویسؔ الفت میں |
| کہ تیرا تذکرہ ہر سو ضرور ہو جائے |
معلومات