خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائے
جو دیکھ لے تجھے وہ چور چور ہو جائے
رہِ طلب میں عجب موڑ آ بھی جاتے ہیں
دعا یہی ہے ازالہ ضرور ہو جائے
تپش ہو ایسی مجھے اپنی آگ کی مولا
کہ میرا قلب سراپا ہی نور ہو جائے
انا کی قید سے اب تو نکال دے مجھ کو
معاف اب تو یہ میرا قصور ہو جائے
کتابِ زیست کا اگلا ورق پلٹنا ہے
تمام یہ کہیں قصہ حضور ہو جائے
بنا دے خود کو تو ایسا اویسؔ الفت میں
کہ تیرا تذکرہ ہر سو ضرور ہو جائے

0
2