| کہیں پہ کوئی نشاں نہ مل جائے |
| جو کھو گیا ہے جہاں نہ مل جائے |
| میں ڈھونڈتا ہوں وہ حرفِ سادہ |
| کہ جس میں کوئی گماں نہ مل جائے |
| سفر میں ایسے بھی موڑ آئے |
| کہ اپنا ہی کچھ بیاں نہ مل جائے |
| زمین کو ہم نے سمیٹ رکھا ہے |
| کہیں کوئی آسماں نہ مل جائے |
| تلاشِ منزل میں ڈر یہی ہے |
| کہیں تھکن کا سماں نہ مل جائے |
| میں اپنی ہستی مٹا رہا ہوں |
| کہیں میرا اب نشاں نہ مل جائے |
| چلو کہ اب بزم سے اویسؔ اٹھیں |
| کسی کو رازِ نہاں نہ مل جائے |
معلومات