وہ ماہِ کامل جو چاندنی سے جہاں میں جلوے بکھیرتا تھا
اداس لوگوں کے آنسوؤں کو جو نرم جذبوں سے پونچھتا تھا
وہ اس کی صورت حسین اتنی کہ دکھ بھی اپنے نہ یاد رہتے
وہ اس کی صحبت کی دلنشینی دلوں کو اجلا بناتی رہتی
لبوں پہ دلکش وہ مسکراہٹ کہ روگ سب کو بھلا ہی دیتی
وہ اک طلسمی وجود ایسا کہ ہر کسی کو وہ اپنا لگتا
وہ اک گھنا سا تھا پیڑ ایسا کہ تپتپاتی دوپہر میں بھی سبھی کو سایہ فراہم کرتا
وہ سائباں تھا جو بے گھروں کا
محبتوں کا امین پیارا
قلندروں کا وہ ہمقدم تھا
وہ چشمہ پانی کا شیریں ایسا
کہ پیاسی روحوں کی پیاس بجھتی
وہ استعارہ تھا روشنی کا
وہ استعارہ تھا زندگی کا
حکیم ایسا کہ ڈوبی بنضیں ابھرنے لگتیں
اگر کہوں میں کہ اک کہکشاں کی صورت
ہزار سمتوں سے ضوفشاں تھا
وہ مرکزِ مہوشاں تھا
میں اہلِ دل سے یہ پوچھتا ہوں
خدا کے بندو ذرا بتاؤ
کوئی یہ کیسے یہ کیسے کہہ دے
کہ ہم سے یکدم بچھڑ گیا ہے
مکاں بدل کر وہ چھپ گیا ہے
بھلا یہ ممکن ہی کب ہوا ہے
میں اتنا سوچوں تو مر ہی جاؤں
غموں میں اپنے بکھر ہی جاؤں

0
17