کیا ہے جو بھی ارادہ کبھی دعا کر کے
خدا نے کر دیا پورا اسے دَیا کر کے
ہمارے حوصلے دیکھے ہیں اک زمانے نے
کوئی ہرا نہیں پایا ستم روا کر کے
نکالنے کے وہ اسلام سے ہیں خواہش مند
رہیں گے کیسے مسلماں ہمیں جُدا کرکے

0
2
گم ہو گیا ہے چاند ، ستارا نہیں رہا
آنکھوں کی جھیل کا بھی کنارا نہیں رہا
امید واپسی کی نہ کوئی ہمیں رہی
ابروئے یار کا بھی اشارہ نہیں رہا
اپنا خیال اس نے بھی تو کچھ لیا بدل
کچھ دل میں گھر ہی ان کے ہمارا نہیں رہا

4
رحمتِ حق، محمدﷺ کی صورت ہوئی
سارے عالم پہ انﷺ کی عنایت ہوئی
کھارے پانی میں ڈالا لعابِ دہن
آخری بوند بھی اس کی امرت ہوئی
بے زباں کنکروں کا نصیبہ کُھلا
جاری ان کی زباں پر شہادت ہوئی

0
11
آپ جوں ہی آئیں گے
درد بھول جائیں گے
آپ کی خدا جانے
ہم وفا نبھائیں گے
ٹہنیوں سے ٹوٹے تو
پھول سوکھ جائیں گے

0
6
روگ تیرا لادوا بھی تو نہ تھا ہستی مگر
تجھکو چارہ گر نہیں،قسمت میں حفرہ گر ملے

0
6
ہر ایک لمحہ مجھ کو وہ اداس رکھتا ہے
یہ دل بہت ملن کی جس سے آس رکھتا ہے
لبوں سے کاش تم نے چوما ہوتا ہی کبھی
یہ رند بھی لبوں پہ اپنے پیاس رکھتا ہے
مری وفا ہی پر نہیں ہے اک یقیں اسے
وہ ساتھ اپنے آدمی شناس رکھتا ہے

0
5
جب کبھی موسمِ بہار آیا
اُجڑے گلشن پہ پھر نکھار آیا
شکل و صورت وہی رہی اپنی
اِسْتِحالَہ کبھی کبھار آیا
مجھ کو حالات نے بدل ڈالا
کس لئے خود کو تُو سنوار آیا

0
6
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

48
636
بعض اوقات شاعر الف کا وصال پچھلے لفظ کیساتھ ایسے کرتے ہیں کہ   پچھلے لفظ کے آخری حرف کی آواز الف میں ضم ہو جاتی ہے۔

6
570
جب تری جان ہو گئی ہوگی​
جان حیران ہو گئی ہو گی​
شب تھا میری نگہ کا بوجھ اس پر​
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی​
اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت​
وہ مِری آن ہو گئی ہو گی​

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
308
میرا نام حمیرا قریشی ہے میں شاعرہ و بلاگر ہوں 

1
39
 عروض ویب سائٹ لنکس:سائٹ پر کلام کے بحور کی فہرستدیوانِ غالبآسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں (بیس اسباق)سائٹ اور شاعری پر مضامینتعاون برائے اخراجاتالف کا وصال - میر تقی میر کی مثاللغت میں غلط الفاظ کی نشاندہی یا نئے الفاظ کو شامل کریںلغات/فرہنگ:لغت کبیراردو انسائکلوپیڈیااملا نامہ فرہنگ آصفیہ مکمل (پی ڈی ایف 84 میگابائٹ)فیروز اللغات (پی ڈی ایف 53 میگابائٹ)بیرونی لنکس:فرہنگ قافیہA Desertful of Roses- Urdu Ghazals of Mirza Ghalibعلم عروض وڈیو اسباق - بھٹنا گر شادابؔ

3
290
مرے ساتھ چلنا، ابھی  چھوڑ دو تم تمہارے خیالات کے میں،مطابق نہیں ہوں ہمیشہ سے لہجہ مرا تلخ سا ہےخلاصہ یہ ہے میں منافق نہیں ہوں

26
سراب کیا ہے؟ سراب یہی ہے کہ ایک لق و دق صحرا میں ایک پیاسا مسافر دور ایک چمکتی ہوئی چیز کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ شاید ریت چمک رہی ہے۔ لیکن جب پاس جا کہ دیکھتا ہے تو وہاں پر ریت نہیں بلکہ پانی ہوتا ہے۔سفیان بلال

29
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا
شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن


7
412
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا ہے بدن
سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
دلِ فریب زدہ دعوتِ نظر پہ نہ جا
یہ آج کے قد و گیسو ہیں کل کہ دار و رسن

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
197
ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی
لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
میں کہا اے دل ہوائے دلبراں
بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


112
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


1
289
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے یوں ہے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


1
257
کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

2
449