| سکوتِ شب میں عجب نغمگی ابھرتی ہے |
| سماعتوں پہ نئی روشنی اترتی ہے |
| میں حرفِ حق کو سجا دوں گا اب لکیروں میں |
| قلم کی نوک سے جب کائنات ڈھلتی ہے |
| تلاشِ ذات کے صحرا میں جل بجھے ہم بھی |
| یہ پیاس روح کے اندر کہیں پنپتی ہے |
| جو دیکھ پائے وہ سب کبر و ناز سے آزاد |
| بصیرتوں سے ہی قدرت کی آنکھ کھلتی ہے |
| گواہی دے گا مرا فن مرے تخیل کی |
| کہ اب تو اویس اپنی ہی ذات ملتی ہے |
معلومات