عہدِ نو میں علم کا بیڑہ اٹھایا آپ نے
پھر سبق توحید کا سب کو پڑھایا آپ نے
کھولے تالے ذہن کے بابا قلندر اولیاء
پردہ سب کی آنکھ کا وہ بھی ہٹایا آپ نے
انفس و آفاق میں اللہ کی قدرت سے وہ
ربط باہم جو بھی ہے وہ سب بتایا آپ نے
قدموں پر جو بھی جھکا گوہر وہ اپنا پا گیا
ہیرے موتی سا خزانہ سب لٹایا آپ نے
کہنے کو لاکھوں کروڑوں لوگ دعویدار ہیں
اللہ کے فرمان پر چل کر دکھایا آپ نے
اللہ کے عرفان کی منزل دکھا دی سامنے
پھر حرا کا نور لے کر جگمگایا آپ نے
بے نوائی پر بھی میری لاج رکھی واہ واہ
معرفت کا شہر اک دل میں بسایا آپ نے

41