نہ جانے کون سا منظر بدلنے والا ہے
پتنگا جاں سے گزر کر بدلنے والا ہے
وہ ایک ہجرت جو ختم ہی نہیں ہوتی
سنا ہے پھر کوئی گھر بدلنے والا ہے
ہوا کے ہاتھ میں ہے اب کے فیصلہ شاید
شجر کی شاخ کا تیور بدلنے والا ہے
تھکن سفر کی رگوں میں لہو بنی جب سے
یقیں ہوا کہ یہ رہبر بدلنے والا ہے
وہ جس کے نام کی خوشبو سے ہے چمن مہکا
سنا ہے اب وہ گلِ تر بدلنے والا ہے
شکستِ دل سے ہی ہو گی کرامتِ الفت
مرے نصیب کا دفتر بدلنے والا ہے
تمام حرفِ تمنا سمیٹ لے اویسؔ
ترا یہ رنگِ سخن ور بدلنے والا ہے

0
4