دریا میں سمندر میں ہواؤں میں تمہی ہو
اس خاک پہ افلاک کی راہوں میں تمہی ہو
پلکوں پہ چمکتے ہوئے موتی بھی تمہارے
دھڑکن کی ہر اک لہر کی بانہوں میں تمہی ہو
میں لوح مقدر پہ ترے امر سے ابھرا
ڈوبی ہوئی نبضوں کی نگاہوں میں تمہی ہو
دلدار ہو ساجن ہو پیا میت ہو میرے
ہر سمت محبت کے سہاروں میں تمہی ہو
تم عرش معلیٰ کے مکیں در پہ تمہارے
مخلوق جو مانگے ہے دعاؤں میں تمہی ہو
ابھرے ہوئے سورج کی تپش حکم ہے تیرا
بپھری ہوئی موجوں کی اداؤں میں تمہی ہو
کھینچے ہے کشش اور بھی کچھ درد کے مارے
واللہ مرے درد کی آہوں میں تمہی ہو
ادنی سا ہے بندہ اویس اس پہ کرم ہو
پھیلی ہوئی جھولی کی صداؤں میں تمہی ہو

37