کچی پنسل سے تراشیدہ کسی ندیا کی طرح
زندگی بھی کہیں بل کھا کے گزر جاتی ہے
گاہ پہلو میں کبھی لے کے وہ چلتی ہے اویس
گاہ آنکھوں سے کہیں دور بکھر جاتی ہے
گفتگو آج ہوئی ان سے تو ایسے بھی ہوا
اپنی پلکوں کے کناروں پہ نمی پائی تھی
اس سے بڑھ کر بھی عجب حال ہوا تھا اپنا
اپنے سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ ہنسی پائی تھی
جیسے چپ چاپ کبھی دل بھی دھڑک اٹھتا ہے
جیسے حسرت کبھی پہلو میں مچل جاتی ہے
غم کے بپھرے ہوئے دریا میں جزیرے کی طرح
ڈوبتے دل کو تسلی کبھی مل جاتی ہے
دور جاتی ہوئی لہروں کے حسیں دامن میں
گیت کیسا تھا تہہِ آب خدا ہی جانے
آسماں پر تو حسیں قوس سجی تھی لیکن
وہ کوئی دل تھا کہ اک خواب خدا ہی جانے
کھیل قسمت کا ہے سارا یہ یقیں آیا ہے
اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کو چنا ہے پیارے
اب تو کوشش سے بھی اٹھتا نہیں پاؤں اپنا
خار رستے میں کوئی ایسا چبھا ہے پیارے
زندگی خواب سہانے بھی بُنا کرتی تھی
خواب بُنتے ہوئے دیوانہ ہوا کرتی تھی

0
9