| اپنی نظر کو آنکھ کے آنسو سے پاک کر |
| ان کے حضور اپنا گریباں نہ چاک کر |
| ہرگز خیال خود کا نہ آئے حضورِ عشق |
| گوہر ملے گا خود کو نشانے پہ تاک کر |
| وارفتگی ہے شرط محبت کی راہ پر |
| دامن کے ساتھ اپنا گریباں بھی چاک کر |
| پتلا ہے خاک کا جو طلسمی عجیب تر |
| اس کے فسوں سے خود کو نہ ہرگز ہلاک کر |
معلومات