اپنی نظر کو آنکھ کے آنسو سے پاک کر
ان کے حضور اپنا گریباں نہ چاک کر
ہرگز خیال خود کا نہ آئے حضورِ عشق
گوہر ملے گا خود کو نشانے پہ تاک کر
وارفتگی ہے شرط محبت کی راہ پر
دامن کے ساتھ اپنا گریباں بھی چاک کر
پتلا ہے خاک کا جو طلسمی عجیب تر
اس کے فسوں سے خود کو نہ ہرگز ہلاک کر

22