| ہم کو معلوم نہ تھا جب سے محبت کی تھی |
| زندگی اپنی بڑی شان سے غارت کی تھی |
| ہم کو ہر شخص نے دنیا میں دوانہ جانا |
| جس کسی شخص سے ملنے میں مروت کی تھی |
| ہائے جب جان بھی آئی ہے لبوں پر اپنے |
| تب کھلا راز محبت بڑی شدت کی تھی |
| ہم یہ سمجھے کہ اسے بھول چکے ہیں کب کے |
| بات سمجھے نہ دل و جان پہ قدرت کی تھی |
| ہم کو مہلت نہ ملی کار جہاں سے صاحب |
| بات تھی عشق کی پر وہ بھی تو فرصت کی تھی |
معلومات