درد میں ڈوب کر جان و دل کھو گئے
کیا تھے ہم اور اب کیا سے کیا ہو گئے
کتنے نزدیک تھے کتنے اب دور ہیں
کیا ستم ہے ستم اوڑھ کر سو گئے
زندگی دھوپ میں جلتی بجھتی رہی
دشت میں چھوڑ کر تم کہاں کھو گئے
تن بدن جل گئے پیاس ہی پیاس سے
تم سمندر تھے گر پھر کہاں سو گئے
دور رہ کر بھی تم مجھ سے کب دور تھے
پاس آ کر مگر تم کہاں کھو گئے

98